Latest

دشتِ تنہائی میں

دشتِ تنہائی میں!
دشتِ تنہائی میں ، اے جانِ جہاں ، لرزاں ہیں
تیری آواز کے سائے ، ترے ہونٹوں کے سراب
دشت ِ تنہائی میں ، دوری کے خس و خاک تلے
کھل رہے ہیں ، ترے پہلو کے سمن ا ور گلاس


اٹھ رہی ہے کہیں قربت سے تری سانس کی آنچ
اپنی خوشبو سے سلگتی ہوئی مدھم مدھم
دور افق پا ر چمکتی ہوئی قطرہ قطرہ
گر رہی ہے تری دلدار نظر کی شبنم

اس قدر پیار سے ، اے جانِ جہاں رکھا ہے
دل کے رخسار پہ اس وقت تری یاد نے ہات
یوں گماں ہوتا ہے ، گرچہ ہے ابھی صبح فراق
ڈھل گیا ہجر کا دن ، آ بھی گئی وصل کی رات
فیض احمد فیض