Latest

دکھ دے کر سوال کرتے ہو

دکھ دے کر سوال کرتے ہو
دکھ دے کر سوال کرتے ہو
تم بھی غالبؔ  کمال کرتے ہو
دیکھ کر پوچھ لیا حال میرا
چلو کچھ تو خیال کرتے ہو
شہرِ دل میں یہ اداسیاں کیسی؟
یہ بھی مجھ سے سوال کرتے ہو
مرنا چاہیں تو مر نہیں سکتے
تم بھی جینا محال کرتے ہو
اب کس کس کی مثال دوں تم کو؟
ہر ستم بے مثال کرتے ہو۔۔
غالبؔ