Latest

رات کے زہر سے رسیلے ہیں

رات کے زہر سے رسیلے ہیں


صبح کے ہونٹ کِتنے نیلے ہیں

ریت پر تیرتے جزیرے ملیں

پانیوں پر ہوا کے ٹیلے ہیں

ریزگی کا عذاب سہنا ہے

خوف سے سارے پیڑ پہلے ہیں

ہجر ، سناٹا ، پچھلے پہر کا چاند

خود سے ملنے کے کچھ وسیلے ہیں

دستِ خوشبو کرے مسیحائی

ناخنِ گل نے زخم چھیلے ہیں

عشق سورج سے وہ بھی فرمائیں

جو شبِ تار کے رکھیلے ہیں

خوشبوئیں پھر بچھڑ نہ جائیں کہیں

ابھی آنچل ہوا کے گیلے ہیں

کھڑکی دریا کے رُخ پہ جب سے کھلی

فرش کمروں کے سیلے سیلے ہیں
پروین شاکر