Latest

زمیں کے حلقے سے نکلا تو چاند پچھتایا

زمیں کے حلقے سے نکلا تو چاند پچھتایا


کشش بچھانے لگا ہے ہرا گلا سیارہ

میں پانیوں کی مسافر ، وہ آسمانوں کا

کہاں سے ربط بڑھائیں کہ درمیاں ہے خلا

بچھڑتے وقت دلوں کو اگرچہ دکھ تو ہوا

کھلی فضا میں مگر سانس لینا اچھا لگا

جو صرف رُوح تھا، فرقت میں بھی وصال میں بھی

اُسے بدن کے اثر سے رہا تو ہونا تھا

گئے دنوں میں جو تھا ذہن و جسم کی لذت

وہی وصال طبیعت کا جبر بننے لگا

چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو

ہوا کے ساتھ سفرکا مقابلہ ٹھہرا!

برس سکے تو برس جائے اس گھڑی ، ورنہ

بکھیر ڈالے گی بادل کے سارے خواب ، ہوا
پروین شاکر