Latest

زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں

زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں


زندگی انساں کی اک دم کے سوا کچھ بھی نہیں
دم ہوا کی موج ہے زم کے سوا کچھ بھی نہیں
گل ، گہسم کہ رہا تھا زندگانی کو ، مگر
شمع بولی ، گریہ ، غم کے سوا کچھ بھی نہیں
راز ہستی راز ہے جب تک کوئی محرم نہ ہو
کھل گیا جس دم ، تو محرم کے سوا کچھ بھی نہیں
زائرین کعبہ سے اقبال یہ پوچھے کوئی
کیا حرم کا تحفہ زمزم کے سوا کچھ بھی نہیں
علامہ اقبال