Latest

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا

سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا
سبھی کچھ ہے تیرا دیا ہوا،سبھی راحتیں ،سبھی کلفتیں
کبھی صحبتیں کبھی فرقتیں ،کبھی دوریاں کبھی قربتیں
یہ سخن جو ہم نے رقم کئے، یہ ہیں سب ورق تیری یاد کے
کوئی لمحہ صبح وصال کا کئی شام ہجر کی مدتیں
جو تمہاری مان لیں ناصحا، تو رہے گا دامن دل میں کیا
نہ کسی عدو کی عداوتیں ، نہ کسی صنم کی مروتیں
چلو آؤ تم کو دکھائیں ہم جو بچا ہے مقتل شہر میں
یہ مزار اہل صفا کے ہیں،یہ ہیں اہل صدق کی تربتیں
مری جان، آج کا غم نہ کر کہ نہ جا نے کاتب وقت نے
کسی اپنے کل میں بھی بھول کر،کہیں لکھ رہی ہوں مسرتیں
  فیض احمد فیضؔ