Latest

سہل یوں راہ زندگی کی ہے

راہِ زندگی
سہل یوں راہ زندگی کی ہے
ہر قدم ہم نے عاشقی کی ہے
ہم نے دل میں سجا لئے گلشن
جب بہاروں نے بے رخی کی ہے
زہر سے دھو لئے ہیں ہونٹ اپنے
لطف ساقی نے جب کمی کی ہے
تیرے کوچے میں بادشاہی کی
جب سے نکلے گداگری کی ہے
بس وہی سرخ رو ہوا جس نے
بحر خوں میں شناوری کی ہے
جو گزرتے تھے داغ پر صدمے
اب وہی کیفیت سبھی کی ہے
فیض احمد فیض