Latest

شبِ غم فرقت ہمیں کیا کیا مزے دکھلائے تھا

شبِ غم فرقت ہمیں کیا کیا مزے دکھلائے تھا
شبِ غم فرقت ہمیں کیا کیا مزے دکھلائے تھا
دم رکے تھا سینے میں کم بخت جی گھبرائے تھا
یا تو دم دیتا تھا وہ بانامہ بر بہکائے تھا
تھے غلط پیغام سارے کون یاں تک آئے تھا
ہل بے عیاری عدو کے آگے وہ پیمان شکن
وعدۂ وصل آج پھر کرتا تھا اور شرمائے تھا
سم کے میری مرگ بولے مر گیا اچھا ہوا
کیا بُرا لگتا تھا جس دم سامنے آجائے تھا
بات شب کو اس سے منع بے قراری پر بڑھی
ہم تو سمجھے اور کچھ وہ اور کچھ سمجھائے تھا
کوئی دن تو اس پہ کیا تصویر کا عالم رہا
ہر کوئی ھیرت کا پُتلا دیکھ کر بن جائے تھا
ہو گئی عدو روز کی اُلفت میں کیا حالت تھی
مومن وحشی کو دیکھا اس طرف سے جائے تھا
حکیم مومن خان مومنؔ دہلوی