Latest

ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز

ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز


ضمیر لالہ مے لعل سے ہوا لبریز
اشارہ پاتے ہی صوفی نے توڑ دی پرہیز
بچھائی ہے جو کہیں عشق نے بساط اپنی
کیا ہے اس نے فقیروں کو وارث پرویز
پرانے ہیں یہ ستارے ، فلک بھی فرسودہ
جہاں وہ چاہیے مجھ کو کہ ہو ابھی نو خیز
کسے خبر ہے کہ ہنگامہ نشور ہے کیا
تری نگاہ کی گردش ہے میری رستا خیز
نہ چھین لذت آہ سحر گہی مجھ سے
نہ کر نگہ سے تغافل کو التفات آمیز
دل غمیں کے موافق نہیں ہے موسم گل
صدائے مرغ چمن ہے بہت نشاط انگیز
حدیث بے خبراں ہے ، تو با زمانہ بساز
زمانہ با تو نسازو ، تو با زما نہ ستیز
علامہ اقبال