Latest

طلوعِ اسلام

 

طلوعِ اسلام
تو راز کن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا رازداں ہو جا ، خدا کا رجماں ہو جا
ہوس نے کر دیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوع انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا، محبت کی زباں ہو جا
یہ ہندی، وہ خراسانی ،یہ افغانی ، وہ نورانی
تو اے شرمندہ ساحل اچھل کر بے کراں ہو جا
غبار آلودہ رنگ و نسب ہیں بال و پر تیرے
تو اے مرغ حرم اڑنے سے پہلے پر فشاں ہو جا
خودی میں ڈوب جا غافل! یہ سر ِ زندگانی ہے
نکل کر حلقہ شام و سحر سے جا وداں ہو جا
گز ر جا بن کے سیلِ تندور ، کوہ و بیاباں سے
گلستاں راہ میں آے تو جوئے نغمہ خواں ہو جا
ترے علم و محبت کی نہیں ہے انتہا کوئی
نہیں ہے تجھ سے بڑھ کر ساز فطرت میں نوا کوئی
علامہ اقبال

1 Comment on طلوعِ اسلام

  1. Large follower of this website, quite a few your writes have really helped me out. Looking forward to improvements!

Comments are closed.