Latest

لوح وقلم

لوح وقلم


ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جول دل پہ گزرتی ہے ، رقم کرتے رہیں گے

اسبا ب غم عشق بہم کرتے رہیں گے
ویرانی دوراں پہ رم کرتے رہیں گے

ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھے گی
ہاں اہل ستم ، مشق ستم کرتے رہیں گے

مے خانہ سلامت ہے ، تو سرخی مے سے
تزئیں رد و بام حر م کر تے رہیں گے

باقی ہے لہو دل میں تو ہر اشک سے پیدا
رنگ لب و رخسار صنم کرتے رہیں گے

اک طرز تعافل ہے سو ان کو مبارک
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
فیض احمد فیض