Latest

مرجھانے لگی ہیں پھر خراشیں

مرجھانے لگی ہیں پھر خراشیں


آؤ کوئی زخم گر تلاشیں

ملبوس ہیں کہ نیلی طشتری میں

رقصاں ہیں سفیدیوں کی قاشیں

پیڑوں کی قبا ہی تھی قیامت

اور اُس پہ بہار کی تراشیں

تاروں کی تو چال اور ہی تھی

جیتا کیے ہم اگرچہ تاشیں

اہرام ہے یا کہ شہر میرا

انسان ہیں یا حنوط لاشیں

سڑکوں پہ رواں،یہ آدمی ہیں

یا نیند میں چل رہی ہیں لاشیں
پروین شاکر