Latest

مظلوم

مظلوم
رات چھائی تو ہر اک درد کے دھارے چھوٹے
صبح پھوٹی تو ہر اک زخم کے ٹانکے ٹوٹے
دوپہر آئی تو ہر رگ نے لہو برسایا
دن ڈھلا، خوف کا عفریت مقابل آیا
یا خدا یہ میری گردان شب و روز و سحر
یہ مری عمر کا بے منزل و آرام سفر
کیا یہی کچھ مری قسمت میں لکھا ہے تو نے
ہر مسرت سے مجھے عاق کیا ہے تو نے
وہ یہ کہتے ہیں تو خوشنود ہر اک ظلم سے ہے
وہ یہ کہتے ہیں ہر اک ظلم ترے حکم سے ہے
گر یہ سچ ہے تو ترے عدل سے انکار کروں؟
ان کی مانوں کہ تری ذات کا اقرار کروں؟
جگرؔ  مراد آبادی