Latest

میں کہ پُر شور سمندر تھے مرے پاوں میں

میں کہ پُر شور سمندر تھے مرے پاوں میں
اب کہ ڈوبا ہوں تو سُوکھے ہوئے دریاؤں میں
نامُرادی کا یہ عالم ہے کہ اب یاد نہیں
تُو بھی شامل تھا میری تمناّؤں میں
دن کے ڈھلتے ہی اُجڑ ہیں آنکھیں ایسے
جس طرح شام کو با زار کسی گاؤں میں
چاکِ دل سی کہ نہ سی، زخم کی توہین نہ کر!
ایسے قاتل تو نہ تھے میرے مسیحاؤں میں
ذکر اس غیرتِ مریم کا جب آتا ہے فرازؔ
گھنٹیاں بجتی ہیں لفظوں کے کلیساؤں میں
  احمد فراز