Latest

نصیب آزمانے کے دن آرہے ہیں

نصیب آزمانے کے دن آرہے ہیں
نصیب آزمانے کے دن آ رہے ہیں
قریب ان کے آنے کے دن آ رہے ہیں


جو دل سے کہا ہے ، جو دل سے سنا ہے
سب ان کو سنانے کے دن آ رہے ہیں

ابھی سی دل و جاں سر راہ رکھ دو
کہ لٹنے لٹانے کے دن آ رہے ہیں

ٹپکنے لگی ان نگا ہوں سے رہے ہیں مستی
نگاہیں چرانے کے دن آ رہے ہیں

صبا پھر ہمیں پوچھتی پھر رہی ہے
چمن کو سجانے کے دن آ رہے ہیں

چلو فیض پھر سے کہیں دل لگائیں
سنا ہے ٹھکانے کے دن آ رہے ہیں
فیض احمد فیض