Latest

نہ قرضِ جاخنِ گل،نام کو،لُوں

نہ قرضِ جاخنِ گل،نام کو،لُوں


ہوا ہوں، اپنی گرہیں آپ کھولوں

تری خوشبو بچھڑ جانے سے پہلے

میں اپنے آپ میں تجھ کو سمولوں

کھلی آنکھوں سے سپنے قرض لے کر

تری تنہائیوں میں رنگ گھولوں

ملے گی آنسوؤں سے تن کو ٹھنڈک

بڑی لُو ہے،ذرا آنچل بھگو لوں

وہ اب میری ضرورت بن گیا ہے

کہاں ممکن رہا،اُس سے نہ بولوں

میں چڑیا کی طرح،دن بھر تھکی ہوں

ہوئی ہے شام تو کچھ دیر سو لوں

چلوں مقتل سے اپنے شام،لیکن

میں پہلے اپنے پیاروں کو تو رو لوں

مرا نوحہ کناں کوئی نہیں ہے

سو اپنے سوگ میں خود بال کھولوں
پروین شاکر