Latest

وہ مست نازجوگلشن میں جا نکلتی ہے

وہ مست نازجوگلشن میں جا نکلتی ہے


وہ مست ناز جو گلشن میں جا نکلتی ہے

کلی کلی کی زباں سے دعا نکلتی ہے
الہی پھولوں میں وہ انتخاب مجھ کو کرے
کہی سے رشکِ آفتاب مجھ کو کرے
تجھے وہ شاخ سے توڑیں از ہے نصیب ترے
تڑپتے رہ گئے گزار میں رقیب ترے
اٹھا کے صدمہ ء فرقت وصال تک پہنچا
تری حیات کا جوہر کمال تک پہنچا

مرا کنول کہ تصدیق ہیں جس پہ اہلِ نظر
مرے شباب کے گلشن کو ناز ہے جس پر
کبھی یہ پھول ہم آغوشِ مدعا نہ ہوا
کسی کے دامن رنگیں سے آشنا نہ ہوا
شگفتہ کر نہ سکے گی کبھی بہار اسے
افسردہ رکھتا ہے گلچیں کا انتظار اسے
علامہ اقبال