Latest

پیامِ آئے اس یارِبے وفا کے مجھے

پیامِ آئے اس یارِبے وفا کے مجھے
جسے قرار نہ آیا کہیں بھُلا کے مجھے
جُدائیاں ہوں تو ایسی کہ عُمر بھر نہ ملیں
فریب دو ذرا سِلسلے بڑھا کے مُجھے
نشے سے کم تو نہیں یادِ یار کا عالم
کہ لے اُڑا ہے کوئے دوش پر ہوا کے مُجھے
میں خود کو بھُول چکا تھا مگر جہاں والے
اُداس چھوڑ گئے آئینہ دکھا کے مُجھے
تمھا رے بام سے اب کم نہیں ہے رفعتِ دار
جو دیکھنا ہو تو دیکھو نظر اُٹھا کے مُجھے
بچھی ہوئی ہے مرے آنسوؤں میں اِک تصویر
فرازؔ  دیکھ رہا ہے وُہ مسکرا کے مُجھے
احمد فرازؔ