Latest

کام آخر جذبہ بے اختیار آہی گیا!

کام آخر جذبہ بے اختیار آہی گیا!
کام آخر جذبہ بے اختیار آہی گیا!
دل کچھ اس صورت سے تڑپا ان کو پیار آ ہی گیا
ہائے یہ حُسنِ تصور کا فریبِ  رنگ و بو
میں یہ سمجھا، جیسے وہ جانِ بہار آ ہی گیا!
ہاں،سزادے اے خدائے عشق! اے توفیقِ غم
پھر زبانِ بے ادب پر ذکرِ یار آہی گیا
اس طرح خوش ہوں کسی کے وعدۂ فردا پہ ہیں
درحقیقت، جیسے مجھ کو اعتبار آہی گیا
جان ہی دے دی جگرؔ  نے آج پائے یار پر
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آہی گیا
جگرؔ  مراد آبادی