Latest

کام مردوں کے جو ہیں،سو وہی کر جاتے ہیں

کام مردوں کے جو ہیں،سو وہی کر جاتے ہیں


کام مردوں کے جو ہیں ، سو وہی کر جاتے ہیں
جان سے اپنی جو کوئی کہ گزر جاتے ہیں
موت ! کیا آ کے فقیروں سے تھے لینا ہے
مرنے سے آگے ہی ، یہ لوگ تو مر جاتے ہیں
دید وادید جو ہو جاے ، غنیمت سمجھو
جوں شرر ورنہ ہم اے اہل نظر جاتے ہیں
بے ہنر ، دشمنی اہل ہنر سے ، آ کر
منہ پہ چڑھتے تو ہیں ، پر جی سے اُتر جاتے ہیں
ہم کسی راہ سے واقف نہیں، جوں نور نظر
رہنما تو ہی تو ہوتا ہے جدھر جاتے ہیں
آہ ! معلوم نہیں ، ساتھ سے اپنے شب و روز
لوگ جاتے ہیں چلے ، سو یہ کدھر جاتے ہیں
خواجہ میر درد