Latest

کہاں آرام لمحہ بھر رہا ہے

کہاں آرام لمحہ بھر رہا ہے
سفر، میرا تعاقب کر رہا ہے


رہی ہوں بے اماں موسم کی زد پر

ہتھیلی پر ہوا کی،سررہا ہے

میں اِک نوزائیدہ چڑیا ہوں لیکن

پُرانا باز،مجھ سے ڈر رہاہے

پذیرائی کو میری،شھرِ گل میں

صبا کے ہاتھ میں پتھر رہا ہے

ہوائیں چھو کے رستہ بھول جائیں

مرے تن میں کوئی منتر رہا ہے

میں اپنے آپ کو ڈسنے لگی ہوں

مجھے اب زہر اچھا کر رہا ہے

کھلونے پالیے ہیں میں نے لیکن

مرے اندر کا بچہ مر رہاہے
پروین شاکر