Latest

کیاعشق ایک زندگی مستعار کا

کیاعشق ایک زندگی مستعار کا


کیا عشق ایک زندگی مستعار کا
کیا عشق پائدار سے ناپائدار کا
وہ عشق جس کی شمع بجھا دے اجل کی پھونک
اس میں مزا نہیں تپش و انتظار کا
میری بساط کیا ہے ۔ تب و تاب یک نفس
شعلے سے بے محل ہے الجھنا شرار کا
کر پہلے مجھ کو زندگی جاوداں عطا
پھر ذوق و شوق دیکھ دل بے قرا ر کا
کا نٹا وہ دے کہ جس کی کھٹک لازوال ہو
یا رب ، وہ در د جس کی کسک لازوال ہو!
دلوں کو مرکز مہر و وفا کر
حریم کبریا سے آشنا کر
جسے نان جویں بخشی ہے تو نے
اسے بازوئے حیدر بھی عطا کر
علامہ اقبال

1 Comment on کیاعشق ایک زندگی مستعار کا

  1. Wonderful posting, I will be checking back again more often looking for posts.

Comments are closed.