Latest

گرتے گرتے ایک طوفانِ قیامت زاہوا

گرتے گرتے ایک طوفانِ قیامت زاہوا
گرتے گرتے ایک طوفانِ قیامت زاہوا
وہ جواک آنسو مژہ پر تھامرے ٹھہرا ہوا
اب تو آنکھیں کھول اوافتادۂ کوئے حبیب
جھانکتا ہے کوئی دروازے سے شرمایا ہوا
ذرے ذرے میں تھی ساری، ایک موج انقلاب
منظر فطرت کو میں دیکھا کیا،سہما ہوا
اللہ اللہ یہ کمالِ  جذبہء پنہانِ عشق
جو گرا آنکھوں سے آنسو، حُسن کا دریا ہوا
لے چلا ہوں میں بھی نذرِ حُسنِ جاناں کو جگرؔ
ساتھ دل کے، ایک سازِ آرزوٹوٹا ہوا
جگرؔ  مراد آبادی