Latest

گلوں میں رنگ بھرے


گلوں میں رنگ بھرے

گلوں میں رنگ بھرے باد نو بہار چلے
چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

قفس اداس ہے یاور صبا سے کچھ تو کہو
کہیں تو بہر خدا آج زکر یار چلے

کبھی تو صبح ترے لب سے ہو آغاز
کبھی تو شبر کا کل سے مشکبار چلے

جو ہم پہ گزری سر گزری شب ہجراں
ہمارے اَشک تری عاقبت سنوار چلے

مقام ، فیض ، کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے
فیض احمد فیض