Latest

گلِ شاخِ دل نا کھلا کبھی

گلِ شاخِ دل نا کھلا کبھی اس آرزو میں ہوں آج تک


میری زندگی بھی عجیب ہے طلبِ نمو میں ہوں آج تک

میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں جسے کوزہ گر کی تلاش ہے

مرا کوزہ گر نا ملا مجھے اسی  جستجو میں ہوں آج تک

میری خاک کو نا بدل سکی کوی رو مرورِ زمانہ کی

مرے خوں میں ہے کوی سرکشی کہ میں اپنی خو میں ہوں آج تک

مجھے خوش نہیں ہیں مرے خدا ترے بر و بحر کی وسعتیں

میں ہوں موج فقرِ دوام کی کسی آبجو میں ہوں آج تک

ترے مے کشوں کے ہجوم میں کوی لب تو درد شناس ہو

میں وہ بے نصیب شراب ہوں کہ تہہِ سبو میں ہو آج تک