Latest

ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں،فرصت کتنی ہے

ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں،فرصت کتنی ہے
پھربھی تیرے دیوانوں کی شہرت کِتنی ہے
سُورج گھر سے نکل چکا تھاکرنیں تیزکئے
شبنم گُل سے پوچھ رہی تھی،مہلت کِتنی ہے
بے مقصد سب لوگ مُسلسل بولتے رہتے ہیں
شہرمیں دیکھوسنّاٹے کی دحشت کِتنی ہے
لفظ تو سب کے اِک جیسے ہیں،کیسے بات کُھلے
دنیاداری کِتنی ہے اور چاہت کِتنی ہے
سپنے بیچنے آتو گئے ہو،لیکن دیکھ تو لو
دنیاکے بازارمیں اِن کی قیمت کِتنی ہے
دیکھ غزالِ رم خوردہ کی پھیلی آنکھوں میں
ہم کیسے بتائیں دِل میں وحشت کِتنی ہے
ایک ادُھورا وعدہ اُس کا،ایک شکستہ دل
لُٹ بھی کئی توشہرِوفاکی دولِت کِتنی ہے
میں ساحل ہوں امجد اوروہ دریاجیساہے
کِتنی دُوری ہے دونوں میں،قُربت کِتنی ہے


امجد اسلام امجد