Latest

ہم نے ہونٹوں پہ تبسمَ کوسجا کر دیکھا

ہم نے ہونٹوں پہ تبسمَ کوسجا کر دیکھا


یعنی زخموں کوپھراِک بار ہرا کردیکھا

ساری دنیامیں نظر آنے لگے تیرے نقوش

پردو جب چشمِ بصیرت سے اٹھاکردیکھا

دورپھر بھی نہ ہوئی قلب و نظر کی ظلمت

ہم نے خوں اپنا چراغوں میں جلا کر دیکھا

اپنا چہرہ نظر آیا مجھے اس چہرے میں

اس کے چہرے سے جو چہرے کو ہٹاکر دیکھا

وہ تعلق تری اک ذات سے جو تھا مجھ کو

اس تعلق کو بہرحال نبھا کر دیکھا

برف ہی برف نظرآتی ہے تا حدِنظر

زندگی ہم نے تری کھوج میں جا کر دیکھا

جاوداں ہوگیا ہر نغۂ پر درد مر ا

میرے ہونٹوں سے زمانے نے چرا کر دیکھا

نسرین نقاش