Latest

یہ جو نشے ہیں سفر کے نہ اُتر جائیں کہیں

یہ جو نشے ہیں سفر کے نہ اُتر جائیں کہیں


کوئی منزل نہ سہی سامنے پر جائیں کہیں
اس کی محفل نی سہی ہجر کا صحرا ہی سہی
خواب و خوشبو کی طرح آؤبکھر جائیں کہیں
تجھ کو یہ دُکھ کہ مری چارہ گری کیسے ہو
مُجھ کو یہ غم ہے مرے زخم نہ بھر جائیں کہیں
اس خلا میں تو زمیں ٹوٹ کے یاد آتی ہے
کوئی قلزم ہو کہ دلدل ہو اُتر جائیں کہیں
گھر سے نکلے تھے کہ دُنیا نے پکارا تھا فرازؔ
اَب جو فرصت ملے دُنیا سے تو گھر جائیں کہیں
احمد فراز