Latest

گلزارِ ہست وبود نہ بے گانہ واردیکھ

گلزارِ ہست وبود نہ بے گانہ واردیکھ


گلزارِ ہست و بود نہ بے گانہ وار دیکھ
ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ

آیا ہے تو جہاں میں مثالِ شرار دیکھ
دم دے نہ جائے ہستی ناپا ئیدار دیکھ

مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ، مرا انتظار دیکھ

کھولی ہیں ذوقِ دید نے آنکھیں تری اگر
ہر رہگو میں نقشِ کفِ پائے یار دیکھ
علامہ اقبال