Latest

نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی

نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی


نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی
مگر وعدہ کرتے ہوئے عا ر کیا تھی

تمہارے پیامی نے سب راز کھولا
خطا اس میں بندے کی سرکار کیا تھی

بھری بزم میں اپنے عاشق کو تاڑا
تری آنکھ مستی میں ہشیار کیا تھی

تامل تو تھا ان کو آنے میں قاصد
مگر یہ بتا طرز انکار کیا تھی

کھنچے خود بخود جانب طور موسی
کشش تیری اے شوقِ د یدار کیا تھی

کہیں زکر رہتا ہے اقبال تیرا
فسوں تھا کوئی تیری گفتار کیا تھی

علامہ اقبال