Latest

اب کہاں جائیں، ہسپنگ سے آگے حصہ۱۰


خانہ بدوشی کی نیند کا بھی اپنا ہی مزا ہے۔ نہ سر پر چھت اور نہ چھپنے کو چار دیواری، نہ بستر کی فکر اور نہ ہی چوری کا کھٹکا۔

آنکھ لگی تو گزرے ہوئے واقعات کی فلم خواب میں بھی چلتی رہی۔

کبھی لگتا کہ کوئی بہت بڑی چٹان پہاڑ سے لڑھک کر ہم پر گر رہی ہے اور بچنے کے لئے ہم ٹرکوں کے نیچے گھس رہے ہیں۔ کبھی لگتا کہ دریائے سندھ کی تند و تیز لہروں میں بہتا چلا جا رہا ہوںاور کمر پر لدے رک سیک کی وجہ سے تیرا بھی نہیں جارہا۔

اچانک نہایت زور کا زلزلہ محسوس ہونے لگا ۔

 بہت دیر تک میں اسے بھی خواب کا ایک حصہ ہی سمجھتا رہا لیکن جب زلزلے کی شدت میں کمی آنے کے بجائے اضافہ ہونا شروع ہوا تو میں نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی۔

 آنکھیں کھولنے کے بعد بھی جسم کی لرزش کم نہ ہوئی۔ مزید ایک دو جھٹکوں کے بعد جب احساسات نے کام کرنا شروع کیا تو دیکھا کے عظیم مجھے کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہا ہے اور زاہد پتہ نہیں کیا کیا بولے چلے جارہا ہے۔ خیرزاہد اور عظیم کی بات سمجھنے کی کوشش کی۔

 معلوم ہوا کہ پون گھنٹے کی جھک ماری کے بعد بھی کسی رہائش کا بندوبست نہیں ہو سکا۔ نا تو کسی نے گھنٹی کی آواز پر کان دھرنا گوارا کیا اور نہ ہی دروازے کھٹکھٹانے کو درخور اعتنا سمجھا۔ اہل سکردو اس قدر گہری نیند سوتے ہیں اس کا ہمیں آج اندازہ ہوا۔

 اب صبح کا اجالا پھیل رہا تھااور امید تھی کہ شاید کچھ دیر میں کوئی سحر خیز میزبان ہم بے وقت مہمانوںکو بمع سامان قبول کرنے پر رضامند ہو ہی جائے۔

سردی تو تھی ہی ، لیکن اس طلوع ہوتی صبح میں سکردو کی اس دلآویزی کا نظارہ بھی شاید کسی کسی مسافر کی قسمت میں ہی ہو۔

سرمئی اور بھورے ،سیدھے آسمان کی طرف بلند ہوتے پہاڑوںکے درمیان ایک وادی اورپہاڑوں کے پیچھے سے آہستہ آہستہ پھیلتی نیلی روشنی ابھی اندر آنا ہی چاہتی ہے۔ آسمان صاف اور پہاڑوں کی بلندیوں پر جمی برف کی سنہری چمک۔ بھورے پتھریلے ان پہاڑوں کے بیچ نیا دن طلوع ہوتا دیکھنا گویا ایک نئے جہان سے آشکار ہوناتھا، دھول دھویں اور بھیڑ بھاڑ کی دنیا سے دور کسی ان دیکھے ،ان سنے سیارے پر۔

کچھ روشنی ہوئی تو میں نے آس پاس کا جائزہ لیا۔ جس احاطے پر اس وقت ہم نہایت بے تکلفی سے قبضہ کئے بیٹھے تھے یہ بسوں کا ایک چھوٹا سااڈہ تھا۔ ہم لکڑی کے جس ٹھیلے پر بیٹھے ہوئے تھے یہ اس اڈے کے بیرونی نکڑ پر تقریباً سڑک کے کنارے قائم گیا تھا۔ چار پانچ بسوں کی گنجائش کے اس مستطیل اڈے کے اطراف بند شٹر والی دکانیں تھیں۔

زاہد احاطے کے اندرمسلسل بے چینی سے ٹہل رہا تھا۔ وہ ایک دکان کے سامنے رکا اور آہستہ آہستہ اس کے قریب ہونے لگا۔ میں یہی سمجھا کہ یہ کوئی دکان ہے جو یقیناً اس وقت بند ہے۔ زاہد کی ایک بند دکان میں دلچسپی کی مجھے کچھ سمجھ نہ آئی۔ زاہد نے میری طرف دیکھا ،میں اٹھا اور زاہد کے پاس چلا گیا۔ زاہد کی توجہ جس چیز پر تھی اس نے مجھے بھی غور کرنے پر مجبور کیا۔

 رات کے اندھیرے میں ہمیں نہ یہ نظر آیا اور نہ ہی ہمیں یہ اندازہ ہو سکا کہ نہایت قریب بلکہ ہماری بغل میں بھی ایک ہوٹل موجود ہے۔

یہ ایک ایسا ہی ہوٹل تھا جو شہروں میں عام طور پر سڑکوں کے کنارے ہوتے ہیں۔ باہر سے لکڑی کے چوکھٹوں میں شیشے لگے ہوئے تھے اور اندر اندھیرا تھا۔ ہم نے شیشوں سے اندر جھانکا۔ مکمل سکوت تھا لیکن صبح کی ہلکی روشنی میں محسوس ہوا کہ چند لوگ شاید چارپائیوں پر سو رہے ہیں۔

زاہد نے شیشے کو پہلے ہلکا اور پھر ذرا زور سے کھٹکھٹایا۔ چند ساعتوں بعد کسی کے اٹھنے اور چپل گھسیٹنے کی آواز آئی پھر بلب کی روشنی نے اندر کا منظر بھی ہم پر واضح کردیا۔

 شیشے کا دروازہ کھلا اور ہم دونوں بغیر پوچھے غڑاپ سے اندر داخل ہو گئے۔ گرم ماحول اور کرسیوں پر بیٹھ کر ہم نے ہکا بکا کھڑے دروازہ کھولنے والے کی طرف دیکھا۔

درمیانے قد کا چھوٹی چھوٹی بکھری داڑھی والا یہ ایک بلتی شخص تھاجو ہمیں غور سے دیکھ رہا تھا۔ یقینا وہ فیصلہ نا کرپا رہاتھاکہ منہ اندھیرے نازل ہونے والے ان انسانوں کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔

 کسی نتیجے پر نہ پہنچنے پر آخر اس نے پوچھا۔

“کہاں سے آیا سر؟”

 “پنڈی سے، ناشتے وغیرہ کا بندوبست ہے آپ کے پاس؟ “ زاہد نے کسی لمبے جواب کے بجائے الٹا سوال داغا۔

“کونسا گاڑی سے آیا ؟”

  “ٹرک سے، ناشتے میں کیا ہے اور کیاآرام کے لئے بھی جگہ ہے آپ کے پاس؟”

 زاہد کسی بحث و تمحیض میں نہیں پڑنا چاہ رہا تھا اور اس کے بچے کھچے حواس پر گرما گرم ناشتہ اور لمبی تان کر سونا ہی چھایا ہوا تھا۔

زاہد کے ان احساسات کو میں تو سمجھ سکتا تھا لیکن ایسے جوابات دروازہ کھولنے والے کی تسلی کے بجائے شکوک و شبہات میں اضافے کا باعث بن سکتے تھے۔

 اس سے پہلے کے سکردو کی اس سہانی صبح ہم کسی تنازعہ کا شکار ہوتے اور پھر اسی تھڑے پر پہنچا دےے جاتے ،میں نے مختصر ترین الفاظ میں گاڑیوں کی قلت کے باعث لینڈ سلائیدنگ سے یہاں تک بذریعہ ٹرک آمد کا ماجرا بتایا۔

بات سمجھ آنے پر اس نے سر ہلایا اور ہمدردی سے بولا

“بہت خرابی ہوا سر، ادھر بھی بہت لوگ پھنسا ہوا ہے۔ سب راستہ کھلنے کاانتظار کرتا ہے ۔ آپ آرام سے بیٹھو میں چولہا جلائے گا اور انڈہ پراٹھابنائے گا۔”

کسی چھت کے نیچے نسبتاً باعزت آرام گاہ ملنے پرمیں نے سکون کا سانس لیا۔ زاہد کرسی پر ڈھیر ہو چکا تھا اور مجھے یقین تھا کہ اب اسے حرکت کرنے کا کہنا بے وقوفی ہی ہوگا۔ اس لئے خود ہی باہر جاکر یاسر اور عظیم کو ایک عارضی ٹھکانے کی خوشخبری سنائی۔ اس کے بعد کسی نہ کسی طرح سامان گھسیٹ ہم سب نسبتاً آسودگی کے ساتھ کرسیوں پر براجمان ہوگئے۔

ہوٹل کے اس ہال کا منظر بھی دلچسپ تھا۔

 دروازے کے سامنے راستے کے ایک طرف دیوار تھی جس میں ایک چوکور سوراخ تھا۔ یہ سوراخ جودوسری طرف واقع کچن سے کھانا وغیرہ حاصل کرنے کے کام آتا ہو گا۔ راستے کے اس طرف چار پانچ میزیں تھیں جن کے گرد لکڑی کی پرانی کرسیاں رکھ کر بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔ بیٹھنے پر یہ کرسیاں کڑکڑاتی تھیں۔ میزوں پر رکسین منڈھ کرصفائی اور خوبصورتی کا بندوبست کیا گیا تھا۔

 جس چیز نے ہم چاروں کو متاثر کیا وہ اندرونی دیوارکی لمبائی کے ساتھ ساتھ لکڑی کاایک طویل تخت تھا۔ اس تخت پر متعددکمبل اور لحاف تھے جن کے اندر یقیناً سونے والے بھی تھے۔ فوراً دماغ میں ایک سرائے کا تصور ابھراجہاں تھکے ہارے مسافروں کو کم قیمت شب گزاری کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔

اتنی دیر میں ہوٹل کا چولہا جل چکا تھا اور چوکور سوراخ سے چائے کی مہک ہوٹل کے ہال میں پھیل چکی تھی۔

اب ہوٹل کے دیگر ملازم بھی بیدار ہوچکے تھے اور تخت پر سوئے حضرات بھی ہماری باتوں اور کچن کی کھٹ پٹ کی آوازوں سے جاگنے لگے۔

 ایک طرف کچھ جگہ خالی ہوتے ہی ہم نے وہاں قبضہ کر لیا اور جوتے اتار کر اوپر ہو کر بیٹھ گئے۔ کچن سے پراٹھوں اور انڈوں کے تلے جانے کی خوشبو بھی آنے لگی تھی۔ آٹھ دس منٹ بعد ہمیں ناشتہ بھی مل گیا۔

ناشتے کے بعد ہم نے کچھ دیر آرام کی شدید ضرورت محسوس کی۔ ہوٹل کے مالک سے بات کی اور اسی تخت پر کچھ دیر نیند کی۔

ایک ڈیڑھ گھنٹہ کچی پکی نیند سونے کے بعد اٹھنے پر مجبور ہونا پڑا۔ ایک تو ہوٹل میں لوگوں کی آمد و رفت اور ہنسنے بولنے کی آوازیں بے آرامی کے لئے بہت تھیں۔ پھر یہ ہوٹل واقع ہی سکردو کے اڈے کے اندر تھا جہاں اب چھوٹی بڑی گاڑیوں کا شور بڑھتا جا رہا تھا۔ خیر اس جسمانی تھکاوٹ کو اتارنے کے لئے تو کم ازکم ایک رات کی نیند چاہئے تھی۔ اس لئے جتنا آرام مل گیا تھا اسی پر قناعت کرنا پڑا۔

منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے کے بعد ہم پھر ایک میز پر جمع ہو گئے اور پھر اپنے منصوبے پر غور کرنے لگے۔

 راستے کی رکاوٹوں نے ہمیں اپنے پروگرام سے کم ازکم ایک دن لیٹ کر دیا تھا۔ ابھی ہمیں خریداری، پورٹروں کے بندوبست اور جیپ کے علاوہ آگے کے حالات کے بارے میں تازہ معلومات بھی درکار تھیں۔ ان کاموں کے لئے بھی ہمیں اچھی خاصی بھاک دوڑ کرنی تھی۔ اور اس بھاگ دوڑ کے لئے مزید وقت درکار تھا۔

اس وقت جب ہم نامساعد حالات کا سامنا کرتے ہوئے صرف آرام کی تلا ش میں تھے، ہمیں سکردو کو چھوڑ کر اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو چکا ہوناچاہئے تھا۔

اب ہم نے اس ہنگامی میٹنگ میں جلد از جلد روانگی کو ممکن بنانے کے سوا ل پر غور کیا۔ عظیم کے سکردو میں بعض معروف ٹریکنگ اور ایکسپی ڈیشن سے متعلقہ لوگوں سے تعلقات تھے۔ اس وقت ہمیں کسی ایسے تعلق کی تلاش تھی جو ہمیں درست مشورہ دے سکے۔

“عظیم صاحب، آپ کسی قریبی ٹیلی فون سے فوراً اپنے دوستوں سے رابطہ کریں۔ اگر وہ مصروف ہوں تو ہم ان سے جا کر مل لیں گے۔”

“جی، بالکل ٹھیک ہے۔ میں ابھی کسی پی سی او سے بات کرتا ہوں” عظیم فوراً اٹھا اور باہر نکل گیا۔

“یار، باقی سامان کی خریداری کا کیا کرنا ہے؟” یاسر نے یاد دلایا۔

“ہاں، سامان تو لینا ہی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ساتھ ہی پورٹروں کا بھی بندوبست ہو جائے تا کہ سامان کا صحیح اندازہ لگایا جا سکے۔ “ میں چاہتا تھا کہ پورٹروں سے معاملہ نمٹانا زیادہ ضروری ہے تا کہ ہم اسی کے مطابق سامان خریدیں۔ سامان خریدنے اور بعد میں پورٹروں کا بندوبست کرنے میں ہمارے لئے سامان سنبھالنے کا مسئلہ ہو سکتا تھا۔

“ ٹھیک بات ہے۔ میں تو کہتا ہوں سب کی ڈیوٹیاں لگا دو۔ ایک کام کو سب مل کر کریں گے تو دو دن تو ادھر ہی لگ جانے ہیں۔” زاہد جو کافی دیر سے خاموش تھا ایک دم بول اٹھا۔

“واہ بھئی واہ! سکردو آ کر تو تمہارا دماغ ٹھیک ہو گیا ہے۔ بڑی پتے کی بات کی بھئی” یاسر نے زاہد کو چھیڑا۔

“زاہد نے بہت اچھی بات کی ہے۔ ہمیں وقت ضائع کرنے کے بجائے حرکت کرنی چاہئے۔ عظیم کو آنے دو ممکن ہے اس کے کسی تعلق سے ہمارا کام آسان ہو جائے۔” میں نے یاسر اور زاہد کی متوقع جھڑپ سے بچنے کے لئے تیزی سے کہا۔

جلد ہی عظیم ہوٹل کے دروازے سے اندر داخل ہوا ۔

“کوئی بات بنی؟” یاسر نے اس کے بیٹھنے سے پہلے ہی پوچھا۔

“ یار، آج کل بہت رش ہے ۔ میں نے تو جسے بھی فون کیا پتہ چلا کہ وہ اوپر گیا ہوا ہے کسی ٹیم کے ساتھ۔ “ عظیم نے مایوسی سے سرہلایا۔

“یار، میں نے کہا نا کہ اٹھو سب باہر نکل کر خود کچھ کرو” زاہد نے پھر اپنی بات پر زور دیا۔

باہم مشورے کے بعد ہم نے یہ طے کیا کہ کم سے کم وقت میں تیاریاں مکمل کرنے کا طریقہ یہی ہے کہ پورٹروں کا بندوبست اور سامان کی خریداری بیک وقت کی جائے۔ عظیم اور زاہد کے ذمے سامان کی خریداری جبکہ پورٹروں کی تلاش یاسر اور میری ذمہ داری ٹھہری۔ہوٹل والوں کو سامان کا خیال رکھنے کا کہہ کر ہم باہر نکل آئے۔

 بازار میں نکل کر اس بات کا اندازہ مشکل تھا کہ کس سے پورٹروں کے بارے میں پوچھا جائے۔ گھومتے پھرتے میں اور یاسر سکردو کے پرانے بازار کی طرف نکل گئے۔ ایک گلی میں ٹریکنگ اور کوہ پیمائی وغیرہ کا پرانا سامان نظر آیا۔ گلی میں داخل ہوئے تو دیکھا کے کئی دکانوں پر تقریباً ہر طرح کا سامان دستیاب ہے۔ کیمپ، سلیپنگ بیگ، رک سیک، ٹریکنگ بوٹ، کریمپن،رسیاں، ٹارچیں، گیٹرز، کیرابینر۔ ٹریکنگ تو ٹریکنگ یہاں سے کوہ پیمائی کے لئے بھی پوری ٹیم کا سامان خریدا جا سکتا تھا۔ نیا بھی اور استعمال شدہ بھی۔

مختلف نوعیت اور ملکوںکا یہ سامان باوجود ہماری کوشش کے ہمیں اپنی طرف متوجہ کررہا تھا۔ اگر ہم جلدی میں نا ہوتے تو شاید تمام دن اسی بازار میں گزار دیتے۔ پہاڑوں سے محبت رکھنے والوں کے لئے اس سامان میں دلچسپی ایک قدرتی امر ہے۔

ایک دکان پر کچھ چیزوں کی قیمتیں وغیرہ معلوم کرتے کرتے اچانک میں نے پورٹروں کا تذکرہ کیا۔

“ پورٹر مل جائے گا نا۔کدھر جاتا ہے آپ؟” دکان کا مالک ایک نوجوان بلتی تھا۔

“ہم نے کنکورڈیا جانا ہے۔ آپ کسی پورٹر کو جانتے ہیں جو جلدی ہم سے مل سکے؟”

“ادھر ست پارہ میں بہت پورٹر رہتا ہے۔ آپ کو ضرورت ہے تو میں کسی کو بھیج دے گا۔آپ کون سا ہوٹل میں ہے؟”

اس سوال کا جواب ہمارے لئے مشکل تھاکیونکہ ہم تو کسی ہوٹل میں نہیں ٹھہرے تھے۔ وہ تو ایک ریسٹورنٹ یا زیادہ سے زیادہ سرائے تھی۔ اس کے علاوہ ہم اس سرائے کا نام بھی نہیں جانتے تھے۔لیکن اب کسی جگہ کا تو بتانا ضروری تھا۔

اس موقع پر یاسر نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرا کیا اور دوکان کے مالک کو جگہ سمجھانے میں کامیاب ہو ہی گیا۔

“ہاں، وہی اڈے کے اندر شیشوں والا ہوٹل۔ آپ مہربانی کر کے جلدی سے پورٹروں کو وہاں بھجوا دیں۔ ہم انتظار کر رہے ہیں۔”

اگر پورٹر وں کا جلدی بندوبست ہو جاتا تو یہ ہمارے لئے خاصی بڑی کامیابی تھی۔خاصی امید کے ساتھ ہم فوراً اسی سرائے میں واپس آگئے۔

تھوڑی دیر میں زاہد اور عظیم بھی کچھ تھیلے اٹھائے پہنچ گئے۔

“ ہماری ضرورت اور حساب کے مطابق تو سارا سامان پورا ہو گیا ہے۔ اب پورٹروں کا کچھ پتہ چلے تو ان کا راشن باقی ہے۔” زاہد اور عظیم کافی پوری احتیاط کے ساتھ ضروری سامان کی خریداری کر لائے تھے۔

“ پورٹروں کا کچھ ہوا؟” عظیم نے پوچھا۔

ہم نے انہیں کوہ پیمائی کی دکان کے مالک سے ہونے والی گفتگو کے بارے میں بتایا۔

“ کچھ دیر انتظار کرنا ہوگا۔ امید ہے وہ آجائیں گے۔” میں نے امید ظاہر کی اور ہم سب دروازے پر نظریں جما کر بیٹھ گئے۔

زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ دو لڑکے اندر داخل ہوئے اور ہوٹل کے مالک سے بلتی زبان میں کچھ پوچھنے لگے۔

مالک نے ہماری طرف اشارہ کیا۔ کچھ جھجکتے ہوئے وہ دونوں ہماری طرف آگئے۔

“آپ کو پورٹر چاہئے؟”

 “ہاں،کیا آپ پورٹر ہیں؟ “میں نے پوچھا۔

 “جی سر، آپ کہاں جاتا ہے، کنکورڈیا؟”۔۔۔

“ہاں، ادھر بیٹھواور کنکورڈیا کے راستے کا کچھ بتاﺅ۔”

ہم نے پورٹروں سے معلومات لینا شروع کیں۔

 “جیپ داسو تک جائے گا آگے راستہ بند ہے اور دو دن کا پیدل سفر ہے اسکولے تک”

یہ مزید پریشان کن خبر تھی۔ راستہ بند ہے تو اب کہاں جائیں!

اتنے دن ہمارے پاس نہیں تھے کہ چار دن یعنی دو دن جاتے ہوئے اور دو دن واپسی پر ، کی مزید دیر کرسکیں۔ سب کی مصروفیات اور ذمہ داریاں اس بات کی اجازت نہ دیتی تھیں۔ خیر اس کے باوجود ہم نے اپنے مذاکرات جاری رکھے۔ اس امید پر کہ شاید کل تک ر استہ درست ہو جائے یا ہم کوشش کر کے زیادہ سفر طے کریں اور کم وقت میں اپنی منزل سے ہو کر واپس آجائیں۔

“اچھا یہ بتاﺅ کہ آپ ہم سے کتنے پیسے لو گے؟ دیکھو ہم سے بھائیوں والی بات کرناہم انگریز نہیں ہے۔” یاسر نے سب سے اہم سوال پوچھا۔

“دیکھو سر، کنکورڈیا تک بیس پے سٹیج ہے۔ چار ریسٹ ہے۔ابھی راستہ بند ہے تو چارسٹیج اور ہوگا۔ دو جانے کا اور دو آنے کا۔اٹھارہ دن لگے گاداسوسے واپس داسوتک۔” چھوٹے قد والے پورٹر نے نہایت سنجیدگی سے کہا۔

“یار ، تم نے تو چوبیس پے سٹیج بنا دئے۔اسکولے سے کنکورڈیا تک اٹھارہ پے سٹیج ہےں۔اور دیکھو ہم نے تیز چلنا ہے اور ریسٹ نہیں کرنا۔ہوسکتا ہے ہم ایک دن میں دو پے سٹیج چلیں۔ اس سے تمہارا بھی وقت بچے گا۔” عظیم نے انہیں سمجھانے کی کوشش کی۔

“ سر بیس سٹیج ہے۔دیکھو۔اسکولے سے کوروفون، جولا، بردومل، پائیو، للی گو، کھابرسے، اردوکس، گورو ون،گورو ٹو، کنکورڈیا۔کنکورڈیا سے گورو ٹو، گورو ون، اردوکس، کھابرسے، للی گو، پائیو، بردومل، جولا، کوروفون اور اسکولے۔” چھوٹے قد والے نے انگلیوں پر پڑاﺅ گنے۔

“یار، للی گو کا پڑاﺅ اب نہیں ہے۔وہ تو لینڈ سلائیڈنگ سے ختم ہو گیا ہے۔ تمہیں نہیں معلوم کیا؟” میں نے حیرت سے پوچھا۔ میں نے یہ بات کئی لوگوں سے سنی تھی اور کتابوں میں سے تصدیق بھی کی تھی۔

“ سٹیج ہے ، ادھر کیمپ لگاتا ہے۔وہ ٹھیک ہے۔ ہم نے دیکھا ہے سر۔”اب پتا نہیں کہ کسی نے وہ جگہ صاف کر دی ہو لیکن میری معلومات کے مطابق ایک شدید لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے للی گو کا مشہور میدان کیمپنگ کے لئے بالکل ناقابل استعمال تھا۔

“ سر دیکھو، ہم آپ کا کیمپ لگائے گا۔ اگر کہے گا تو کھانا پکائے گا اور خدمت کرے گا۔راستہ مشکل ہے ہم آپ کا گائیڈ بھی بنے گا۔” پورٹر نے ہمیں مطمئن کرنے کی کوشش کی۔

“اچھا چلو کیمپ لگانا تو مشکل نہیں، لیکن اگر ککنگ کرو گے تو اس کے کتنے پیسے لو گے؟” میں نے ایک خیال کے تحت پوچھا۔

“کک کا ریٹ پورٹر سے زیادہ ہے۔ ہمیں دونوں کا پیسہ دو تو ہم ککنگ کرے گا۔اگر پورٹر کا سرداری کرنا ہے تو اس کا پیسہ بھی دے دو ہم سرداری بھی کرے گا۔”

ہم سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

“اطہر صاحب، ابھی تو اور بھی بہت کچھ ہو گا۔ ذرا مزید کریدیں۔” عظیم نے مسکراتے ہوئے انگریزی میں کہا۔

“اچھا یار، اور تمہاری کوئی شرط تو نہیں؟”

“سر، ہم آپ کا خدمت کرے گا۔ گورنمنٹ ریٹ تو کم ہے۔آپ کو ایسا علاقہ دکھائے گا کہ آپ کا دل خوش ہو گا۔ ہمارا یونی فارم اور بوٹ دو۔راشن کا پیسہ دو تو ہم اپنا راشن لائے گا۔ ادھر اسکولے سے بکرا لے گاپائیو کے لئے۔آپ کا خدمت کرے گا اور خوش ہو گا تو اپنی خوشی سے جو دل کرے گا دے گا۔”

 یہ پورٹر تو ہواﺅں میں کے ٹو سے بھی اوپر اڑ رہا تھا۔

ابھی معلوم نہیں کیا کیا انکشافات باقی تھے۔لیکن ہمارے لئے اتنا ہی کافی تھا۔اتنے مہنگے پورٹرلینے کے بعد شاید ہمیں سکردو میں اپنا سارا سامان بھی بیچنا پڑ جاتا۔

سکردو روانگی سے قبل میں نے راستے، پورٹروں اور روایتی طریقہ کار کے متعلق خاصی چھان بین کی تھی۔ میرے علاوہ عظیم بھی ٹریکنگ کے معاملات کا خاصا تجربہ رکھتا تھا۔

 بلتی پورٹروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بہت جفاکش اور تجربہ کار ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان سے معاملات طے کرنا بھی خاصا مشکل کام ہے۔ سکردو کی اس سرائے میں ملنے والے یہ پورٹر ہمیں بہت مہنگے اورکم تجربہ کارلگے۔ دوران گفتگومجھے احساس ہوا کہ یہ پورٹر کنکورڈیا تک گئے تو ہیں لیکن اس سال نہیں۔

معاوضے کے معاملے میں بھی یہ ہم سے ضرورت سے کہیں زیادہ توقعات لگائے بیٹھے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ انگریز تو غریب لوگ ہوتے ہیں۔یہ توموٹی آسامیاں ہیں اور کہیں سے کوئی بنک لوٹ کر آئے ہیں۔

 اگر ہم اس پورٹر کی توقع کے مطابق چلتے تو ہمیں اسے بیس ہزار سے زائد کی ادائیگی کرنی پڑتی۔ ایک پورٹر کی ایک کک کی اور ایک سردار کی۔ عام طور پر گورنمنٹ کے مخصوص کردہ اصولوں کے مطابق ایک پورٹر کا معاوضہ زیادہ سے زیادہ چھ ہزار روپے بنتا تھا۔ اب پتہ نہیں کہ ہم شکل سے اتنے بے وقوف نظر آتے تھے یا وہ پورٹر کسی خوش فہمی میں مبتلا تھا۔

خیر،پورٹروں کے بغیر ہم کسی صورت اپنی مہم پر نہیں نکل سکتے تھے اس لئے کوئی معاملہ طے کرنا بھی ضروری تھا۔ ہم گورنمنٹ ریٹ ، منظور شدہ خوراک اور سہولیات پر اصرار کرتے ۔ وہ راستے کی مشکلات اور پورٹروں کی کمی کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتے اورکئی قسم کی اضافی مراعات کا تقاضہ کرتے اور پھر احتجاج کے طور پر واک آﺅٹ کر جاتے۔

باہر جا کر آپس میں ہاتھ ہلا ہلا کر آپس میں بحث کرتے اور پھر اندر آکر ہمیں اپنی شرائط پر آمادہ کرنے کی کوشش کرنے لگتے۔

کئی مرتبہ ایسا ہی ہوا۔

 ہم بضد تھے کہ وزارت سیاحت کے منظور شدہ فی پڑاﺅ معاوضے، خوراک اور لباس وغیرہ پر ہی معاملہ طے ہو۔ لیکن ان کا تقاضہ تھا کہ خوراک، معاوضے اور دیگر لوازمات کے ساتھ ساتھ اضافی رقم بھی دی جائے جو کہ بہر صورت نامناسب تقاضا تھا۔

آس پاس بیٹھے چائے پینے یا کھانا کھانے والوں کے لئے یہ صورتحال ایک دلچسپ تماشا بن چکی تھی۔ سب لوگ اپنی باتیں اور کام چھوڑ چھاڑ کر اب ہماری طرف دیکھ رہے تھے اور لطف اندوز ہورہے تھے۔ یہ صورتحال ہمارے لئے شرمندگی کا باعث بن رہی تھی اور ہم اپنے آپ کو اچھا خاصا بے بس محسوس کرنے لگے تھے۔

 دوپہر ہو گئی پر ہم کسی نتیجے پر نا پہنچ سکے۔ عجیب مخمصے میں پھنس کر رہ گئے تھے ہم۔ میں اور عظیم اٹھ کر باہر آگئے ۔

“ میرا خیال ہے کہ ان کے ساتھ شاید ہماری بات نا بن سکے۔” میں نے عظیم سے کہا۔” کب سے ہم انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن مجال ہے کہ یہ اپنے مطالبات سے ٹس سے مس بھی ہوئے ہوں۔”

“ میرا بھی یہی خیال ہے کہ ہم صرف اور صرف وقت ضائع کر رہے ہیں۔یہ پورٹر ہمارے لئے مناسب نہیں۔ دیکھیں ناسکردو میں ان کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے وہاں بالتورو پر جا کر انہوں نے ہڑتال کر دی تو ہم کیا کر لیں گے؟” عظیم نے ایک اہم خدشے کی طرف توجہ دلائی۔

 عظیم کا کہنا بھی قرین قیاس تھا کہ ٹریک پر جہاں ہم بہت حد تک ان پر انحصار کر رہے ہوں گے ان کی کوئی بھی نامناسب فرمائش یا غیر ذمہ دارانہ رویہ بہت تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ ان سے معذرت کر کے اور پورٹر تلاش کئے جائیں ۔

“اطہر صاحب، میں اب جا کر فوراً کسی قریبی ہوٹل میں مناسب کمرے دیکھتا ہوں، آپ ان پورٹروں کو واپس بھجوائیں۔ ہمیں کچھ دیر کسی پرسکون ماحول کی ضرورت ہے جہاں ہم غور کر کے کسی آسان حل تک پہنچ سکیں  مجھے تو اس ماحول میں بہت شرمندگی محسوس ہونے لگی ہے۔” عظیم سر ہلاتا ہوا بازار کی بھیڑ میں گم ہو گیا۔

 واپس اپنی جگہ بیٹھ کر میں نے پورٹروں سے معذرت کی اور یاسر اور زاہد کے ساتھ پھر اٹھ کر باہر آگیا۔ہوٹل میں ان پورٹروں کے ٹلنے کے امکانات نظر نا آتے تھے اس لئے باہر نکل آنا ہی بہتر تھا۔

زاہد اور یاسر شدید غصے میں تھے۔ وہ ان پورٹروں کے ماضی اور حال کے بارے میں نجانے کس علم کو بروئے کار لاتے ہوئے طرح طرح کے خیالات کا اظہار کرنے لگے تھے۔

 اتنے میں عظیم بھی خوش خوش آتا نظر آیا۔

“ چلیں جی، ایک مناسب اور آرام دہ کمرے کا بندوبست ہوگیا ہے۔ ادھر ایک دو گلیاں چھوڑ کر وہ ہوٹل ہے اور میں پہلے بھی وہاں ٹھہر چکا ہوں۔ وہاں کا کھانا بھی اچھا ہے اور کمرے بھی صاف ستھرے ہیں۔” عظیم نے خوشخبری سنائی۔

“ چلو یار، سامان چکو۔ اینا پورٹراں نے تے ۔۔۔۔۔” زاہد پھر شروع ہونے لگا تھا اس لئے میں فوراً سامان اٹھانے کی نیت سے چل پڑا۔

 مل جل کر سامان اٹھایا گیا اور ہم جلد ہی لب سڑک واقع ایک صاف ستھرے ہوٹل کی پہلی منزل پر واقع ایک چار بستروں والے بڑے کمرے میں منتقل ہو گئے۔ عظیم کی بات درست تھی۔ کمروں میں صفائی اور مسافروں کے آرام کا خاصا خیال رکھا گیا تھا۔ آرام دہ بستر پر دراز ہوا تو احساس ہوا کہ کمرکو نجانے کب سے اس نعمت کی تلاش تھی۔