Latest

ایولانچ، ڈی ہائیڈریشن، واپسی، ہسپنگ سے آگے حصہ۲۶


میں نے سر اٹھا کر سامنے دیکھا جہاں بہت کم فاصلے پر وہ دیوارشروع ہو رہی تھی جس پر چڑھ کر ہم نے گونڈوگورو پاس پر پہنچنا تھا۔

نورانی سرزمین کے ناقابل فراموش سکوت میں اچانک ایک زور دار سرسراہٹ نے ہم سب کو دہلا دیا۔پلک جھپکتے میں ہم سب پیچھے مڑے اور ہماری سانسیں حلق میں اٹک کر رہ گئیں۔

 جنجیالی پیک جسے ہم اب کچھ پیچھے چھوڑ آئے تھے سے برف کا ایک بھاری تودہ سرکتا ہوا نیچے آرہا تھا۔تودہ سرسراہٹ کی آواز پیدا کرتا ہوا باسو کی بلندی سے گلیشئیر کی سطح تک آیا اور سمندر کی کسی تیز لہر کی طرح عین اس جگہ کو اپنے ساتھ بہا کر لے گیا جہاں کچھ دیر پہلے تک ہم کئی گھنٹے سے قیام پذیر تھے۔

ہر طرف برف کا سفوف ہوا میں پھیل گیا اور سانس لینا دشوار ہو گیا۔

یہ تمام واقعات بمشکل تیس چالیس سکینڈ پر محیط تھے لیکن ہمیں محسوس ہوا جیسے ہم بہت دیر تک یہ ہلاکت خیز سماں دیکھتے رہے ہوں۔ ہمارے قدم اپنی جگہوں پر جیسے جم سے گئے اور چہروں پر اڑتی ہوائیاں ہماری اندر کی کیفیت کا حال بیان کرنے کے لئے کافی تھیں۔

قادر مطلق نے ہمیں قدم قدم پر اپنی یکتائی کے مظاہرے دکھائے تھے۔یہ اسی کی مہربانی تھی کہ برف کے اس تودے کو اس وقت تک اپنی جگہ سے ہلنے کا حکم نہ دیا جب تک ہم اس کی زد سے باہر نہ نکل گئے۔آخر پانچ چھ گھنٹے سے جب ہم اسی مقام پر ایک چھوٹے سے کیمپ کے اندر بند تھے یہ ایولانچ کیوں نہ گری؟ چند منٹ کا ہی فرق تھا اور رات کے اس پہر جب برف اچھی طرح جم جاتی ہے اور اس کے سرکنے کے امکانات کم سے کم ہو جاتے ہیں یہ تودہ اپنی جگہ سے سرکا اور عین اسی جگہ کو ملیامیٹ کیاجسے نسبتاً محفوظ سمجھ کر مقامی پورٹروں نے وقتی قیام کے لئے مناسب سمجھا تھا۔

اس مرتبہ جب ہم مڑ کر چلنا شروع ہوئے تو ہمارے قدموں میں وہ جان نہ تھی جو اپنی کامیابی کی واضح امید کی بنا پر یہاں تک ہمیں لائی تھی۔

 ہم میں سے ہر کوئی اب تک ایک لفظ منہ سے نا نکال سکا تھا اور اپنے اندر کی بے یقینی اور خوف کو قابو کرنے کی کوشش کررہاتھا۔ رہی سہی کسر ٹھنڈ کی وہ شدت پوری کر رہی تھی جس میں ہمارے جسموں کی کپکپاہٹ واضح ہو چکی تھی اور سانس لینا مشکل تر ہو گیا تھا۔

میں سب سے پیچھے تھا، مجھ سے آگے یاسر پھر عظیم اور سب سے آگے پورٹر ایک قطار کی شکل میں چل رہے تھے۔ ہمارے درمیان خاصا وقفہ تھا اور غالباً علی اب اس مقام پر پہنچ چکا تھا جہاں رسے کے ذریعے گونڈوگورو پاس پر چڑھنے کا مرحلہ شروع ہونا تھا۔

میں اپنے قدموں پر نظریں جمائے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اپنی ہمت کو مجتمع کرتا چال میں ایک روانی پیدا کرنے کی کوشش کررہاتھا۔اچانک آگے دھم کی آواز آئی۔ میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو دل ایک دم رک ساگیا۔

مجھ سے آگے جاتا یاسر برف پر گرا اور تین چار قلابازیاں کھا کر ساکت ہو گیا۔اس کا رک سیک اسی کے قریب گرا پڑاتھا۔

میں آگے کی سمت دوڑا جب کہ عظیم نے مڑ کر دیکھا اور یاسرطرف بھاگا۔یاسر اب اٹھ کر بیٹھا ہوا تھا اور برف اٹھا اٹھا کر منہ میں ڈال رہا تھا۔

“یاسر کیا ہوا؟ یہ کیا کر رہے ہو؟ تمہاری طبیعت تو ٹھیک ہے؟” قریب پہنچ کر میں نے یاسر کو جھنجھوڑا۔

“پانی، پانی دو”یاسر نے بیٹھی بیٹھی آواز نکالی۔

 میں نے ہاتھ میں پکڑی بوتل آگے کی لیکن بوتل سخت لکڑی کی طرح تھی، اس میں موجود پانی جم چکا تھا۔عظیم نے اپنے بیگ سے بوتل نکالی اور یاسر کو انرجائل ملا پانی پلایا۔

“میری ٹانگوں میں جان نہیں ہے۔میں اب ایک قدم بھی آگے نہیں جا سکتا!”یاسر نے رک رک کر بتایا۔

 “کچھ دیر آرام کر لو، پھر آگے چلتے ہیں۔ ابھی ہمارے پاس وقت ہے۔” میں نے یاسر کو تسلی دینے کی کوشش کی۔

 “میں نے کہا نا کہ میں اب کسی صورت میں بھی آگے نہیں جاﺅں گا،میری ٹانگوں میں جان نہیں ہے۔تم دونوں پورٹروں کے ساتھ جاﺅ۔ میں واپس زاہد کے پاس پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں۔”یاسر کی آواز میں صدیوں کی تھکاوٹ اور مایوسی تھی۔

میرے لئے یہ لمحہ انتہائی مشکل تھا۔یہاں سے گونڈوگورو پاس کا آغاز ہو رہا تھااور تھوڑی سی ہمت سے ہم ایک گھنٹے میں درے کے اوپر پہنچ سکتے تھے۔اس سے آگے مسلسل اترائی تھی جس پر چلنا مشکل نہیں تھا۔یاسر کے آمادہ نہ ہونے کی صورت میں حالات کے مطابق فیصلہ کرنا نہایت دشوار تھا۔

میں اور عظیم ہر حال میں یہ مہم سر کرنا چاہتے تھے۔اتنی مشقت اور قربانیوں کے بعد صرف ایک گھنٹے کے فاصلے سے ہم اپنی مہم ادھوری نہیں چھوڑ نا چاہتے تھے۔ہم ایسے مقام پر تھے جہاں یاسر کو اکیلا چھوڑنا اسے موت کے منہ میں خود دھکا دینے کے مترادف تھا۔مجھے معلوم تھا کہ اس کے جسم میں پانی کی کمی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے اس پر سردی اور بلندی دونوں کے اثرات نہایت شدت سے اثرانداز ہو رہے ہیں۔

ہمارے ساتھ چار پورٹر تھے جن کا سامان بنداور اچھی طرح بندھا ہواتھا۔اس حالت میں یاسر کے ساتھ کم ازکم ایک پورٹر کو واپس بھیجنا ضروری تھا۔لیکن اس وقت یہ ممکن نہ تھا کہ پورٹروں کا سامان کھلوا کر اور یاسر کی چیزیں نکلوا کر ایک پورٹر کو الگ کیا جا سکے۔اس کے علاوہ آگے جا کرہم دو ٹیم ممبرز میں سے کسی ایک کو معمولی سا بھی مسئلہ پیش آجاتا تو ایک ناقابل یقین مصیبت پیدا ہو جاتی۔

“سر، جلدی کرو۔سردی میں ہم کھڑا نہیں ہو سکتا۔ہم کو جلدی اوپر جانا ہے۔ابھی اوپر والا ٹیمیں نیچے اترے گا تو ان کے پیر سے پتھر گرے گا۔پھر ہم اوپر نہیں جا سکتا۔”

ابراہیم نے سردی سے کانپتے ہوئے کہا۔

پورٹروں کا لباس ہم سے کہیں کم گرم تھا اور اس سردی میں ان کے لئے گرم رہنے کی واحد صورت یہی تھی کے وہ چلتے رہیں۔

“سردی لگتاہے۔ یاسر بھائی کو سمجھاﺅ۔یہ سامنے رسی لگاہے، ہم اوپر سے ریسکیو والے کو ٹارچ دکھا کر نیچے بلاتا ہے۔ پھر وہ اس کی مدد کرے گا۔” علی نے بھی منت کرنے کے انداز میں کہا۔

“میں نہیں جا سکتا۔مجھے مجبور نہ کرو، میں واپس جا رہا ہوں۔” یاسر ایک دم رک سیک اٹھا کر کھڑا ہو گیا اور واپسی کے لئے بھاگا۔

“یاسر رک جاﺅ،پھسل جاﺅ گے۔ آگے اندھیرا ہے کسی کھائی میں نہ گرجانا۔”عظیم چیخا۔

صورتحال نے ڈرامائی انداز میں پلٹا کھایا تھا۔ ایسے میں بے بسی اور غیریقینی کی کیفیت نے دماغ کو سوچنے کی صلاحیت سے محروم کر دیا تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ اب کیا کیا جائے؟یاسر بہت تیزی سے برفانی اترائی پر دوڑ رہاتھا اور وہ جس طرف بھاگ رہا تھا وہاں گونڈوگورو چوٹی کا سایہ پڑرہاتھا۔ رات کے اس پہر اگرچہ برف سخت ہو چکی تھی لیکن کسی بھی قدم پر چھپی کھائی کا خطرہ بھی بدستور باقی تھا۔

“علی تم بھاگ کر جاﺅ اور یاسر کو روکو۔ہم تمہارے پیچھے آرہے ہیں۔” میں نے تیزی سے علی کو کہا اور علی یاسر کے پیچھے دوڑا جو اترائی پر تقریباًپھسلتا ہوا تیزی سے ہم سے دور ہو رہا تھا۔

“عظیم صاحب، ہمیں یاسر کے پاس پہنچ کر اسے سمجھانا ہوگا۔باقی فیصلہ ہم وہاں پہنچ کر ہی کریں گے۔اگر وہ آج نا مانا تو کل پھر پاس عبور کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔”میں عظیم سے مخاطب ہوا اور ہم سب بھی تیزی سے نیچے اترنے لگے۔جس جگہ ہم نے کیمپ لگایا تھا وہ اب برف کے گولوں میں غائب ہو چکی تھی اور وہاں راستے کا بھی صحیح اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا۔

کوئی پندرہ منٹ تیزی سے نیچے اترنے کے بعد ایک بڑے پتھر کے پیچھے یاسر اور علی بیٹھے نظر آئے۔

یاسر گھٹنوں میں سر دئےے بیٹھا تھا ۔

“پلیز، اب مجھے اوپر جانے کا مت کہنا۔میں کسی صورت بھی اوپر نہیں چڑھ سکوں گا۔آخر تم دونوں کیوں نہیں جاتے۔میں شرمندہ ہوں کہ تمہارا ساتھ نہیں دے سکتا، لیکن تم دونوں میں ہمت ہے اور تم لوگوں کے لئے یہ مشکل بھی نہیں۔”یاسر نے کسی کے بولنے سے پہلے ہی ہذیانی انداز میں بولنا شروع کر دیا۔

میں نے عظیم کی طرف دیکھا جو مہم کا خاتمہ ہوتے دیکھ کر ہونٹ بھینچے کھڑا تھا۔ میرے لئے اس کے دل کی کیفیت سمجھنا مشکل نہ تھا۔ دونوںابراہیم، علی اور سلیمان بے چینی کے عالم میں کبھی مجھے اور کبھی یاسر کو دیکھتے اور آپس میں سرگوشیاں شروع کر دیتے تھے۔

کنکورڈیا اور ہمارے درمیان اب صرف درہ گونڈوگوروکی وہ بلندی تھی جس کے قدموں میں ہم کھڑے ہوئے تھے۔ کئی دنوں سے سفر کی کٹھن رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے ہمارے ذہن میں ایک مرتبہ بھی ہمت ہارنے کا خیال نہیں آیا تھا۔

دو پرانے ساتھیوں کے ساتھ چھوڑ جانے کے بعد کسی بھی منظر سے لطف اندوز ہونا میرے لئے بے معنی تھا۔میں نے مڑ کر گونڈوگورو پاس کی طرف دیکھا جہاں اسی وقت ٹارچ سے کوئی اشارہ کیا گیا۔پھر اس کھڑی چڑھائی پر نظر ڈالی جہاں یاسر گر پڑا تھا اورپھر باسو پیک پر جمی برفوں کو نظروں سے ٹٹولا جہاں سے کسی بھی وقت کوئی تودہ ہمیں اس برف زار کا دائمی حصہ بنا سکتا تھا۔

مجھے محسوس ہوا کہ میں اس برفانی زمین کا ایک حصہ ہوں اور پھر برف کی یہ سردی میری آواز میں بھی اتر آئی۔

“یاسر اٹھو! ہم سب ہسپنگ جائیں گے۔ممکن ہے قدرت کی مصلحت یہی ہو کہ ہم لوٹ جائیں۔ہم نے قراقرم کے مشکل ترین حصے تک رسائی حاصل کی ہے اور حسین ترین چوٹیوں کو ان کے قدموں پر کھڑے ہو کر دیکھا ہے۔کیا ہم نے کبھی یہ سوچا تھا کہ ان حالات سے ناواقفیت کے باوجود ہم پانچ ہزار میٹر سے کہیں زیادہ بلندی تک آجائیں گے؟ ہمیں زیادہ تیاری اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔حقائق سے آنکھیں بند کر کے ہم کبھی اپنے ارادوںکی تکمیل نہ کر سکیں گے۔”

جب لیلیٰ کی نوکیلی چوٹی سورج کی پہلی کرنوں کو ان گنت رنگوں میں منعکس کر رہی تھی،ہسپنگ سے آگے جانے والوں کی منزل کا تعین ہوچکاتھا۔ہسپنگ کے رنگ برنگے خیموں سے بھرے میدان سے ذرا ہٹ کر،بلندٹیلے پر نیلے رنگ کا ایک کیمپ کھل رہا تھا جس کے لئے اب یہ زمین اجنبی نا تھی۔

٭٭٭ (ختم شد) ٭٭٭