Latest

بلندیوں کے بلند لوگ، ہسپنگ سے آگے حصہ۱۶


 ابھی ہم کھانے وغیرہ سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ چند غیرملکیوں اور بہت سارے مقامی پورٹروں پر مشتمل ایک ٹیم ریسٹ ہاﺅس کے احاطے میں داخل ہوئی۔

 پورٹروں نے دھڑا دھڑ سامان ایک طرف ڈھیر کرنا شروع کیا اور خیمے ایستادہ کرنے لگے۔ غیرملکیوں نے ’ہیلو، ہائی‘ کے بعد چند کرسیوں پر قبضہ جما لیااور خیموں کے نصب ہونے کا انتظار کرنے لگے۔اس ٹیم میں مرد وخواتین دونوں ہی شامل تھے ۔

 ایک خوش وضع نوجوان جو ہیٹ اور بڑے بڑے سن گلاسز پہنے ہوئے تھا ،اچانک ہماری طرف آیا۔

 “اسلامُ علیکم”

حلیے سے تووہ پاکستانی نہیں لگتا تھا لیکن اس کے سلام سے ہم ہڑبڑا ئے اور سب نے اٹھ کر ہاتھ ملایا۔

“آپ کو پہلے کہیں دیکھا ہے “ ایک کرسی پر اطمینان سے بیٹھ کر اس نے ہیٹ اتارا اور سر سہلاتے ہوئے مجھ سے مخاطب ہوا۔

“ آپ اور یہ بھائی کیا پہلے بھی ادھر آئے ہیں؟” اس نے یاسر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا۔

“جی پچھلے سال ہم مشہ بروم بیس کیمپ گئے تھے تو یہاں ٹھہرنا ہوا تھا”۔ میں نے حیرت سے جواب دیا۔

 “ آپ لوگ شاید وہ سامنے والے کیمپنگ گراﺅنڈ میں کچھ دیر کے لئے آئے تھے میں نے وہاں آپ کو دیکھا تھا”۔

میں نے دماغ پر زور دیا اور اس نوجوان کی یادداشت کی دل ہی دل میں داد دی۔

 پچھلے سال میں اور یاسر کیمپنگ کے لئے کسی مناسب جگہ کی تلاش میں تھے اور آس پاس کی تمام جگہوں کو دیکھ کر اسی ریسٹ ہاﺅس میں آگئے تھے۔ لیکن یہ بمشکل دو تین منٹ کا وقفہ تھا جس میں اس نوجوان نے ہمیں دیکھا ہو گا اور ابھی ہمیں دیکھتے ہی اسے وہ سب یاد آگیا تھا۔

“جی۔۔ آپ نے بالکل صحیح پہچانا، کیا آپ بھی ٹریکنگ وغیرہ کے لئے آتے ہیں؟”

“اصل میں میں گائیڈ ہو ں اور مختلف ٹیموں کے ساتھ رہتا ہوں۔ میرا نام محبوب ہے، آپ لوگوں کا کیا ارادہ ہے اس دفعہ”

 ایک پیشہ ور گائیڈ کا اس دوستانہ ماحول میں ملنا ہماری خوش قسمتی تھی۔ ہم نے اپنے پلان کے بارے میں محبوب سے مشورہ کرنا مفید سمجھااور مختصراً گونڈوگورو کے راستے کنکورڈیا جانے کے بارے میں بتایا۔

 “زبردست! آپ لوگوں کے شوق کو دیکھ کر مجھے خوشی ہو رہی ہے اور مجھے امید ہے کہ آپ لوگ اپنا ٹریک مکمل کر لیں گے۔ ادھرسے واپس آنے والے تو بہت ہیں لیکن گونڈوگورو پاس سے کنکورڈیا بہت ہی کم لوگ جاتے ہیں۔ ویسے اس دفعہ یہ کچھ زیادہ ہی مشکل ہے کیونکہ میں نے اس سے پہلے اتنی سنوکبھی نہیں دیکھی گونڈوگورو پاس پراور دونوں طرف۔”

محبوب کی بات سن کر ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔

 کچی برف پر چلنا تو مشکل ہے ہی لیکن اس سے کہیں زیادہ خطرناک گلیشئیر کی وہ برفانی کھائیاں ہوتی ہیں جو نرم برف کے نیچے چھپی نگاہوں سے اوجھل رہتی ہیں اور قدم رکھنے پر ہی ان کا پتہ چلتا ہے۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے!

عموماً جولائی کے مہینے تک گلیشئیروں کے اوپر کی یہ کچی برف بہت حد تک پگھل چکی ہوتی ہے۔ اس کا فائدہ ایک تو چلنے میں آسانی اور دوسرا یہ چھپے ہوئے موت کے غار جسے دراڑیں، کھائیاں یا کریوس کچھ بھی کہہ لیں ،سامنے آ جاتے ہیں۔ اس سال شاید سردیوں کے موسم میں برف باری بہت زیادہ ہوئی یا گرمیوں میں بھی موسم کی خرابی کے باعث برف گرتی رہی ہوگی۔

“ہیں جی، اچھا!کتنی برف ہوگی جی وہاں؟” زاہدکو ابھی سے سردی لگنا شروع ہو گئی۔

“تقریباً دو فٹ تو ہے اوربعض جگہ زیادہ بھی ہے۔ اس دفعہ ٹورسٹ زیادہ ہیں اس لئے زیادہ آنے جانے کی وجہ سے گونڈوگورو پاس کی چڑھائی سے پتھربھی نیچے گرتے ہیں “ ۔محبوب کا مقصد ہمیں ڈرانا ہرگز نہیں تھا۔ وہ ہمیں پہلے بھی اسی علاقے میں دیکھ چکا تھا اس لئے حقائق کو چھپانے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔

 محبوب کی باتوں نے ہمیں کافی پریشان کیا۔ لیکن قبل از وقت ان حقائق کا معلوم ہونا بھی ضروری تھا اور محبوب کی معلومات تازہ ترین تھیں کیونکہ وہ ابھی اسی راستے سے ہو کر آرہاتھا۔

 “محبوب صاحب، معلومات کا بہت بہت شکریہ، ابھی آپ آرام کیجئے اور اس کے بعد ہو سکے تو ہمیں کچھ وقت مزید دیجئے گا “محبوب کی تھکاوٹ کا احساس کرتے ہی میں نے کہا۔

 “جی ضرور! تھکاوٹ تو اتنی جلدی اترنے والی نہیں ۔ بیس دن سے ہم ان پہاڑوں میں گھوم رہے ہیں ۔ لیکن میں پورٹروں کی ادائیگی وغیرہ کر لوں تو آپ کے پاس آتا ہوں ۔ آج ہم نے یہاں رکنا ہے۔ میں بھی کچھ گپ شپ کرنا چاہتا ہوں آپ لوگوں سے ۔ “

 محبوب ہاتھ ملا کر پورٹروں کے ایک مجمع میں گھس گیا اور ایک ڈائری نکال کر حساب کتاب کرنے لگا۔ بڑی ٹیموں کے ساتھ پورٹروں کی تعداد بھی اچھی خاصی ہوتی ہے اور مہم کے اختتام پر گائیڈ اور ٹوورمنیجرکے لئے پورٹروں کو سنبھالنا ایک دشوار کام بن جاتا ہے۔

ریسٹ ڈے کا پیسہ دو، گوشت کا پیسہ دو، وردی دو، خوشی دو۔۔ یہ دو وہ دو ۔۔۔ پورٹروں کو مطمئن کر نے کے لئے واقعی بے پناہ صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

کچھ دیر پورٹروں کی ادائیگی کا دلچسپ منظر دیکھنے کے بعد میں نے زاہد کو ساتھ لیااور ریسٹ ہاﺅس کے سامنے ایک تاریک سی دوکان میں گھس گیا۔ دوکان میں گاﺅں کی ضروریات کے مطابق راشن اور روزمرہ کی ضروریات کا سامان تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹریکنگ وغیرہ سے متعلق بھی کچھ سامان موجود تھا۔ کچھ دیر دوکان کے مالک سے گپ شپ کرکے اور سامان کا جائزہ لے کرہم باہر نکلے اور مشہ بروم کے نظارے کے لئے کھیتوں کی طرف چلے گئے۔