Latest

جونی اردو بولتا ہے، ہسپنگ سے آگے حصہ۱۵


غیرملکی سیاحوں میں دلچسپی لینا زاہد اور عظیم دونوں میں مشترک تھا۔ کسی غیرملکی کو دیکھ کو ان دونوں میں تجسس کی ایک لہر اٹھتی تھی جو اس سفر میں مختصر اورتفصیلی تبادلہ خیال کی صورت میں ہمارے لئے مزید دلچسپی کا باعث بھی بنتی رہی۔

ہوشے میں گونڈوگورو ریسٹ ہاﺅس میں اس موقع پر ہمارے ساتھ ایک دلچسپ’ہاتھ‘ ہوا۔اور یہ ’ہاتھ‘ ہوا بھی ہماری اپنی حرکتوں کے باعث!

یاسر اور عظیم قریب بیٹھے غیرملکی لڑکوں کا بغور جائزہ لے رہے تھے۔ نظریں ملنے پر ’ ہیلو، ہائی‘ کی گئی جو ہر سیاح دوسرے کو دیکھ کر اخلاقاً کرتا ہے۔ ہاتھ منہ دھو کر واپسی پر میری اور زاہد کی کمر ریسٹ ہاﺅس کے ہال کی طرف ہو گئی تھی اس لئے ہم نے مڑ کر ’ہیلو‘ کہااور اپنی باتوں میں مشغول ہوگئے۔

“ اوئے، مجھے یہ لمبا تو ’وہ‘۔۔۔ لگ رہا ہے! “ چند لمحے کی خاموشی کے بعد یاسر نے عظیم کی طرف دیکھ کر کہا۔ ’وہ‘ کہتے ہوئے اس کا لہجہ خاصا ذومعنی تھا۔

“ ہوں۔۔ حرکتیں تو اس کی عجیب سی ہیں۔” ایک وقفے کے بعد عظیم نے بھی شبے میں اضافہ کیا۔

ایسی بات پر تجسس ابھرنا قدرتی امر تھا۔ لہٰذا میں نے اور زاہد نے بیک وقت مڑ کے دیکھا کہ یہ ’وہ‘ سے کیا مراد ہو سکتی ہے۔ جس لڑکے کے بارے میں شک کا اظہار کیا گیا تھا وہ پہلے ہی ہماری طرف دیکھ رہا تھا اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ بھی تھی۔ ہم فوراً سامنے دیکھنے لگے۔

“ہے نا؟ کچھ زنانہ سی حرکتیں نہیں ہیں اس کی؟” یاسر نے مجھ سے بھی تصدیق چاہی۔

“ چھوڑو یار، اگر ہے بھی تو ہمیں کیا۔۔ کوئی اور بات کرو” میں نے موضوع بدلنا چاہا۔

“ آہو یار، یہ تو بیٹھ کے بھی ڈانس کرتا ہے اوئے!” زاہد کی آواز میں خوامخواہ جوش آگیا۔ تجسس نے اسے پھرمڑ کر دیکھنے پر مجبور کیا تھا اوراب اس نے کرسی کو ترچھا بھی کرلیاتھا۔

اسی لمحے کسی بات پر وہ غیرملکی لڑکے بھی اونچی آواز میں ہنسے اور میں نے بھی پھر مڑکر دیکھا۔اس مرتبہ میں نے نظر بھر کر ان لڑکوں کا جائزہ لیا ۔ جس لڑکے کے بارے میں ابھی طرح طرح کی قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں وہ کم ازکم ایک ڈانسر ضرور تھا۔ کیونکہ کوئی گانا گنگناتے ہوئے وہ اپنے بازوﺅں کو رقص کے انداز میں بڑی فن کاری سے ہلا رہا تھا۔

“ویسے ہمیں اس طرح کسی کو پوائنٹ آﺅٹ نہیں کرنا چاہئے۔ وہ کیا سوچیں گے ہمارے بارے میں” عظیم کو بھی مینرز کا خیال آگیا۔

“ویسے یہ ان پہاڑوں میں کیا لینے آیا ہے؟ اس کے تو اور بڑے شوق ہو ں گے!” زاہد نے مزید مشکوک بات کی۔

وہ لڑکے ایک مرتبہ پھر ہنسے۔ اور اس دفعہ ہم نے محسوس کیا کہ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے۔ ہمارے قابل اعتراض فقروں کے ساتھ ہی ان کی ہنسی یقینا اتفاقی نہیں ہو سکتی تھی۔

چند لمحے کے لئے خاموشی چھائی رہی۔

“ کیا آپ اردو سمجھتے ہیں؟” عظیم نے ایک مسکراہٹ کے ساتھ انگریزی میں سوال کیا۔

“ جی ہاں! تھوری تھوری” لمبے قد والے لڑکے کے جواب نے چند لمحوں کے لئے ہم پر سکتہ طاری کر دیا۔

“ لے دس، یہ ۔۔تو اردو بولتا ہے!” زاہد کرسی سے گرتے گرتے بچااور فوراً گلاس میں پانی بھر کر پینے لگا۔

اس کی اردو صاف نہیں تھی لیکن کیا یہ کم تھا کہ وہ ہماری بات سمجھ کر ٹوٹی پھوٹی اردو میں ہی صحیح، جواب تو دے رہا تھا۔یہ ایسی صورتحال تھی جس سے دوچار ہونے کے بعد خفت ، حماقت اورلطافت کے ملے جلے تاثرات ہم سب پر چھا گئے۔ اب مشکل یہ تھی کہ ڈھنگ کی کوئی بات ذہن میں نہیں آرہی تھی ۔ لیکن کچھ نا کچھ بات بنانی بھی ضروری تھی۔

“ اگرآپ نے کوئی بات محسوس کی ہو تو ہم شرمندہ ہیں!” میں نے کرسی موڑ کر موقع کی مناسبت سے معذرت چاہی۔

“ نہیں، مجھے برا نہیں لگا۔ ہم انجوائے کررہے تھے” لڑکے نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ دوسرے لڑکے کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی۔

“ آپ ادھر پاکستان میں ہی رہتے ہیںیا اردو سیکھی ہے آپ نے؟” زاہد نے شرمندگی اور حیرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ سوال کیا۔

“ میں انڈیا میں رہتا ہوں۔ بمبئی میں۔ وہاں فلموں میں کام کرتا ہوں اس لئے کچھ اردو بول لیتا ہوں لیکن سمجھ سب لیتا ہوں!” لمبے قد کے لڑکے نے معنی خیز انداز میں سرہلاتے ہوئے کہا۔

اب ہمارے لئے یہ سمجھنا مشکل نا تھا کہ ہماری تمام باتیں ان لڑکوں نے سمجھی تھیں اور یہ وہ بات تھی جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نا تھی۔

“اچھا! تو اگر آپ فلموں میں کام کرتے ہیں تو یہاں کیسے آگئے؟” زاہد کو مزید حیرت ہوئی۔

“بس دیکھنے آئے تھے پاکستان۔میرے دوست کو پہاڑوں کا شوق ہے۔ اس لئے۔”

یہ دونوں لڑکے ایک ڈیڑھ سال سے انڈیا میں رہ رہے تھے۔ لمبے قد والے لڑکے نے اپنا نام ’جونی ‘ بتایا اور وہ اصل میں امریکی تھا۔ اس کا دوست ’فلپ‘ فرانسیسی تھا لیکن امریکا اور انڈیا میں رہنے کی وجہ سے انگریزی اور کچھ اردو بھی جانتا تھا۔یہ دونوں دوست اسکولے سے کنکورڈیا اور پھر گونڈوگورو سے ہوشے آئے تھے اور آرام کی غرض سے یہاں خیمہ زن تھے۔

کچھ دیر دوستانہ انداز میں بات چیت کے بعد جونی اور فلپ آرام کے لئے اپنے کیمپ میں چلے گئے۔

یہ دن کے تین بجے کے لگ بھگ کا وقت تھا۔ ریسٹ ہاﺅس کے سامنے راستے پر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد غیرملکیوں اور پورٹروں پر مشتمل کچھ ٹیمیں نظر آتیں اور آس پاس کے کسی ریسٹ ہاﺅس یا کیمپنگ گراﺅنڈ میں غائب ہو جاتی تھیں۔

ہوشے میں چار مسافروں کے آنے کی خبر پھیل چکی تھی۔اور اب بہت سے لوگ جن میں بوڑھے جوان سب ہی شامل تھے مزدوری کی آس پر ہمارے اردگردجمع ہو چکے تھے۔ ہوشے پہنچتے ہی ہمارا پہلا کام پورٹروں کا بندوبست تھالیکن اتنے لوگوں میں سے مناسب پورٹروں کا انتخاب آسان نہ تھا۔ اس لئے ہم نے مناسب الفاظ میں ان لوگوں کو واپس بھیجا تاکہ ذرا اطمینان سے کچھ فیصلہ کریں۔سکردو میں پورٹروں کی کمی مسئلہ تھی یہاں زیادتی!

ریسٹ ہاﺅس کا ملازم قریب ہی تھا، بلاکر اسے کھانا لانے کا کہا گیا ۔ ہمیں امید تھی کہ جتنی دیر میں ہم کھانا کھائیں گے اتنے میں جمع ہونے والوں کی تعداد میں شاید کچھ کمی ہو جائے۔