Latest

دنیا کا سب سے کم بلند گلیشئیر


پاکستان کے شمالی علاقہ جات کا ذکر یہاں کی عظیم برفوں کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ دنیا کے ان بلند ترین علاقوں میں جہاں قراقرم، ہمالیہ، ہندوکش اور پامیر کے پہاڑی سلسلوں میں لاتعدادسربفلک پہاڑی چوٹیاں، منفرد ترین جنگلی حیوانات تیزرفتار و پرشور دریا اور حسین جنگلات وسبزہ زار ہیں وہاں دنیا کے طویل ترین گلیشئیربھی شمالی علاقہ جات کی انفرادیت اور شہرت کا بڑا سبب ہیں۔ سیاچن، بیافو، بالتورو، بتورہ، ہسپر اور چوگولنگما وہ نام ہیں جوقطبی علاقوں کے برفانی خطے کے بعددنیا میں برف کے سب سے بڑے ذخائر ہیں۔ بہت سے دیگر گلیشئیر بھی پاکستان اور شمالی علاقہ جات کے مختلف حصوں میں واقع ہیں اور یا تو ان گلیشئرز میں ملتے ہیں یا دیگر اطراف میں واقع ہیں۔یہ تمام گلیشئیرسلسلہ کوہ قراقرم اور پاکستان میں واقع ہیں۔ ان گلیشئیرز کے اطراف موجود برفانی چوٹیاںبھی اسی طرح اپنی بلندی اور خطرناکی کی وجہ سے تمام دنیا میں بے نظیر مانی جاتی ہیں اور مجموعی طور پر یہ علاقے ‘پہاڑوں کی سلطنت ‘ اورپہاڑ ‘پہاڑوں کے دیوتا ‘کہلاتے ہیں۔

عام طور پر کسی بھی گلیشئیر کی موجودگی کے لئے تمام سال ٹھنڈک کا ہونا ضروری ہے اور یہ یقینی طور پر نہایت بلندی کی وجہ سے ہی ممکن ہے۔ عمومی طور پر گلیشئیر4سے 5ہزار میٹر کی بلندی پرکسی پہاڑی چوٹی کی بنیادوں سے شروع ہوتے ہیں اور 3000 میٹر کی بلندی تک ختم ہو جاتے ہیں۔ لیکن شمالی علاقہ جات میں گلگت کے ضلع نگر میں واقع ہوپر گلیشئر اس حیثیت سے منفرد ہے کہ یہ دنیا کا کم بلند ترین گلیشئیر ہے اور 2400 میٹر کی بلندی پر قائم ہے۔ اپنے ماخذمشہور راکا پوشی سلسلے کی ایک چوٹی دیران پیک سے شروع ہونے والایہ گلیشئیر ہوپر نامی اس گاﺅں میں آکر ختم ہوتا ہے۔ ہو پر گلیشئیر کو ‘بالتر گلیشئیر’ بھی کہا جاتا ہے اور ان دونوں ناموں سے مشہور ہے۔ دیران پیک کے علاوہ اس گلیشئیر کے اطراف میں کیپل ڈوم ، شلتراور متعدد دیگر چوٹیاں بھی ہیں جو یہاں کی خوبصورتی اور شہرت کا سبب ہیں۔

ہوپر میں داخل ہو کر آپ ہرگز یہ اندازہ نہیں لگا سکیں گے کہ آس پاس کوئی گلیشئیر بھی موجود ہے اور اگرہے تو کس طرف ہے جب تک آپ کو بتایا نہ جائے اور آپ خود دیکھ نہ لیں۔ گاﺅںکے آخری سرے پر ایک نسبتاً بلند ٹیلے یا نزدیکی پہاڑی پر جا کر گلیشئیر کا مشاہدہ کرنا ایک ایسا دلچسپ، حیرت انگیز اور اچھوتا تجربہ ہے جسے کسی ایک جملے میں بیان کرنا ناممکن ہے۔ گلیشئیر کی سطح سے وقفے وقفے سے ابھرنے والی آوازیںجو یہاں کے پرسکوت ماحول میں واضح سنائی دیتی ہیں، برف کے نیچے بہنے والے پانی کی آواز، کسی پگھلتے ہوئے حصے پر پڑے چھوٹے بڑے پتھروں کا اچانک لڑھکنا اور کسی تاریک تہہ میں غائب ہوجانا۔ حیرت ہی حیرت ، کائنات کے کھلتے ہوئے اسرار! نئے ابھرتے ہوئے سوالات اور ذہن کو وسعت دینے والے مناظرجو ہر دفعہ دیکھنے پر کوئی نیا ہی رنگ لئے ہوں گے! گلیشئر کی سطح پر چلتی ہوئی نگاہ بل کھاتے گلیشئر کے ساتھ چوٹی تک جاتی ہے ، اگر چوٹی بادلوں میں چھپی نہ ہو تو۔ ‘کبھی عیاں کبھی نہاں’ چوٹیوں کا معاملہ تو ایسا ہی ہے۔

ہوپر نا صرف ان چوٹیوں اور گلیشئیر کی وجہ سے سیاحوں کی دلچسپی کا مرکزہے بلکہ ایک گول وسیع ہموار وادی کی شکل میں جس کے اطراف بلند پہاڑی چوٹیاں ہیں اور سرسبز فصلوں کی موجودگی میںایک حسین پہاڑی گاﺅں ہے۔ ہوپر گاﺅں ایک ایسے خطہ میں واقع ہے جہاں ہوپر گلیشئیرکے علاوہ بھی متعدد گلیشئیر واقع ہیں اور اسی لئے یہاں کا موسم گرمیوں میں بھی خنکی سے لبریز ہوتا ہے۔ان علاقوں میں گرمیوں کاموسم ایسا ہوتا ہے کہ سائے میں ہوں تو دھوپ کی خواہش ہوتی ہے اور اگر دھوپ میں ہوں تو سائے کی۔دھوپ نہ ہو تو ٹھنڈ ہوتی ہے۔

یہاں کے لوگ مہمان نواز اور سادہ ہیں اور زیادہ تر کاشت کاری، مویشیوں کی نگہداشت اور سیاحت کے پیشوں سے منسلک ہیں۔ گرمیوں میں یہ لوگ دیگر علاقوں کی طرح بلندی پر واقع چراہ گاہوں اور سبزہ زاروں میں اپنے جانوروں کو لے جاتے ہیں اور وہیں پر ان سے دودھ اور گوشت وغیرہ حاصل کر کے سردیوں کے موسم اور روزمرہ ضروریات کی تکمیل کے لئے جمع کرتے ہیں۔

بلند چراگاہوں میں جہاں ان حیوانات کو وافر چارہ اور سازگار ماحول میسرآتا ہے وہیں چند خطرات بھی ان جانوروں کی زندگی کو لاحق رہتے ہیں۔ برفانی چیتا جو برفانی چوٹیوں اور ناقابل پہنچ مقامات پر رہتے ہیں اپنی خوراک کے لئے ان بھیڑ بکریوں کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ مقامی لوگوں کو ان چیتوں سے بہت شکایت رہتی ہے۔ اصل میں یہ چیتے گوشت کم اور خون کے زیادہ شوقین ہیں اور اپنی پیاس بجھانے کے لئے ایک آدھ بھیڑ بکری کے بجائے کئی کئی جانوروں کو بیک وقت ختم کر ڈالتے ہیں۔ اس وجہ سے ان جانوروں کا گوشت ضائع ہوجاتا ہے اور لوگوں کو بہت نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ کچھ عرصہ قبل جب راقم الحروف ہوپر کی سیاحت پر گیاتو انہی دنوں ایک ایسا واقعہ پیش آیا تھا۔ ناصر نامی ہو پر کے ایک باشندے،جو پاکستان آرمی میں ملازم ہے اوران دنوں چھٹی پر تھا ،نے بتایا کہ اس کے اور گاﺅں کے دیگر لوگوں کے جانور گلیشئیر کی دوسری طرف ایک چراہ گاہ میں لے جائے گئے تھے ایک برفانی چیتے کا شکار ہوئے۔ اس چیتے نے کچھ ہی دیر میں دس سے زائد بھیڑوں اور بکریوں کو اپنی پیاس کا نشانہ بنا ڈالا۔ ناصر نے کہا کہ ہمیں اس بات کا دکھ نہیں ہوتا کہ کوئی درندہ ایک یا دو جانوروں کو ہلاک کر کے اپنی بھوک مٹا لے۔ دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ یہ چیتے بہت سے جانوروں کو صرف اپنی خون کی پیاس بجھانے کے لئے مار ڈالتے ہیں اور باقی مردہ جسم جوں کا توں چھوڑ جاتے ہیں جو ہمارے کسی کام کا نہیں ہوتا۔ ان چیتوں سے اپنے جانوروں کی حفاظت بھی آسان نہیں کیونکہ بھیڑ بکریاں سرسبز گھاس کی تلاش میں پہاڑیوں میں بکھر جاتی ہیں اور بہت بلندی تک جہاں انسان کا جانا آسان نہیں ہوتا پہنچ جاتی ہیں اور گھات میں بیٹھے درندوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔

ہوپر سے آگے پہاڑوں کے اندر بہت سے علاقے ہیں جو سیاحوں کے لئے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ہوپر گلیشئر سے تقریباً منسلک برپو گلیشئیر جو کئی کلومیٹر پر مشتمل ہے اور بعض دلفریب حصوں کے لئے روٹ سمجھا جاتا ہے۔ ان مقامات میں رش جھیل اور رش پہاڑی، سپانٹک پیک بیس کیمپ، میئر پیک، میئر گلیشئیر اور ہمدر وغیرہ شامل ہیں۔ ان مقامات میں رش جھیل اور رش پیک ٹریک سیاحوں کے لئے غیر معمولی دلچسپی کا حامل ہے۔ یہ نسبتاً مشکل ٹریک ہوپر سے دو دن کی مسافت پر واقع ایک بلند پہاڑی’رش’ تک لے جاتا ہے جہاں ایک نہایت دلفریب جھیل واقع ہے۔ اس بلندی والے مقام کی خاص ترین بات یہ ہے کہ یہاں سے ہنزہ اور نگر کے تمام اہم مقامات اور چوٹیاں واضح دکھائی دیتی ہیںجن میں راکاپوشی، بتورہ، التراور پسو وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دنیا کے طویل ترین گلیشئرز میں سے ایک ہسپر گلیشئر اور اس کے اطراف میں موجود دنیا کی مشہور اور بلند ترین چوٹیاں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ ان چوٹیوں میں دستگیل سر، کنجوت سر، کنیانگ کش وغیرہ دنیا کی بلند اور مشہور چوٹیوں میں سے ہیں۔ اس کے علاوہ ہسپر گلیشئیر اپنی پچاس کلومیٹر تک طوالت اور ہیبت کے ساتھ ایک منفرد نظارہ پیش کرتا ہے۔ہوپر سے برپو گلیشئر کے ساتھ ساتھ ایک ٹریک پریہ گلیشئیر سفید چمکداربرف اور اطراف میں سرسبز چراہ گاہوں کے ساتھ ایک پرسکون اور خوشگوار سفر کا منفرد موقع فراہم کرتا ہے۔ یہاں کی چراہ گاہوں میں گرمیوں کا موسم گزارنے کے لئے وقتی طور پر بنائے گئے گھروں میں مقامی لوگ روایتی مہمان نوازی اور سامان خورد ونوش کے ساتھ سیاحوں کی تواضع کرتے ہیں۔