Latest

دیودار کے جنگلوں میں


وہ اپریل کا وسط تھا جب بیٹھے بٹھائے چند دوستوں نے فیصلہ کیا کہ ٹھنڈیانی سے نتھیا گلی کے درمیان ایک انتہائی گھنے جنگل میں نہایت ہی خوبصورت مناظر سے بھرپور ٹریک پر نکلا جائے۔ میرا جانی کی بلند چوٹی اور علاقے کے سحر انگیز تذکروں نے چار دوستوں کو فی الفور ٹریک پر نکلنے کے لئے آمادہ کر دیاتھا۔

ایک دن چھوڑ کر ہم نے پنڈی سے ایبٹ آباد کی گاڑی پکڑی اور ڈھائی گھنٹے بعد ایبٹ آباد کی مرکزی اڈے میں جا اترے۔ یہاں سے ٹھنڈیانی کی سوزوکی کی تلاش شروع کی۔ گاڑی کا بندوبست ایبٹ آباد میں کوئی مشکل نہیں کیونکہ اڈے سے ہی آس پاس کے تمام علاقوں کی گاڑیاں دستیاب ہو جاتی ہیں۔ ہزارہ کے تمام علاقوں میں بھی سوزوکی لوڈنگ گاڑیاں ہی سفری ضروریات کے لئے بھی استعمال ہوتی ہیں۔ ایک ڈرائیورسے مول تول کے بعد ہم سامان سمیت گاڑی میں سوار ہو گئے۔ چونکہ وقت پر گاڑی مل گئی تھی لہٰذا توقع تھی کہ وقت پر ٹھنڈیانی پہنچ کر وہاں سے اپنی پہلی منزل تک بروقت پہنچا جا سکتا ہے۔

گاڑی چلی اور بائیں ہاتھ مڑ کر ایک نامعلوم چڑھائی کا آغاز ہو گیا۔ اس سے قبل جتنی مرتبہ بھی ٹھنڈیانی کا سفر کیا تھا اس میں یہ راستہ کبھی نہیں دیکھا تھا۔ خیال ہوا کہ شاید ڈرائیور کسی اور سمت سے مری روڈ اور پھر ٹھنڈیانی جانے والی سڑک کی طرف جا نکلے گا۔ کوئی پندرہ منٹ کی چڑھائی چڑھ کر گاڑی ایک طرف رک گئی۔ اترے اور ڈرائیور سے معلوم کیا کہ بھائی کیا ارادہ ہے۔ کہنے لگا کہ میرا گھر ٹھنڈیانی کے راستے میں آتا ہے اور میرے بچے یہاں سکول میں پڑھتے ہیں ۔میں چند منٹ میں انہیں لے کر آتا ہوں کیونکہ آپ کو ٹھنڈیانی پہنچا کر میں واپس نہیں آ سکوں گا۔” تو بھائی پہلے بتایا ہوتا، ہم تو جلد از جلد ٹھنڈیانی پہنچ کر آگے جانا چاہتے ہیں۔ “ ”اوہ جی مجھے کیا پتا کہ آپ نے کہیں آگے جانا ہے۔ وہاں سے آگے کون جاتا ہے؟ میرا خیال تھا کہ آپ کسی ہوٹل میں رکیں گے اور تھوڑی سی دیر سے کیا فرق پڑتا ہے؟“ ڈرائیور کی بے نیازی بھی قابل دید تھی۔ سوچا آئندہ کسی بھی سفر میں نکلنے سے پہلے ان ڈرائیور حضرات کو اپنا مکمل منصوبہ بمع جزئیات سمجھایا جائے اور اگر ان کا کوئی ذاتی مفاد مزاحم ہو تو اس کی مناسبت سے پلان میں تبدیلی کر لی جائے۔ اب یہ ضروری تو نہیں کہ ڈرائیور آپ سے معاملہ طے کرنے کے بعد صرف آپ کی مرضی کے مطابق چلے ۔ ڈرائیور کسی نامعلوم سمت میں غائب ہو چکا تھا اور ہم ایک نامعلوم پہاڑی پرتھے ۔ بہرحال مجبوری کے تحت اس خوبصورت پہاڑی کی بلندیوں سے ایبٹ آباد کا منظر دیکھنے لگے۔ قریب سے گزرتے ایک صاحب کو دیکھ کر اس جگہ کے بارے میں دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ یہ شملہ پہاڑی ہے اور ایبٹ آباد کی مشہور جگہ ہے۔

کوئی پون گھنٹے بعد ڈرائیور صاحب اپنے دو فرزندان کے ساتھ ایک موڑ سے نمودار ہوئے اور ایک مسکراہٹ کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہو گئے۔ بچے بھی اگلی سیٹوں پر بیٹھے اور ہم خون کے گھونٹ پیتے گاڑی کی پچھلی نشستوں پر لد گئے۔ گاڑی واپس مڑی اور تیزی سے اترائی اترتی ہوئی ایبٹ آباد کی مرکزی سڑک اور پھر دائیں ہاتھ مڑ کر نوا شہر کے علاقے سے ہوتی ہوئی مری روڈ پر آگئی۔ یہاں سے چند کلو میٹر بعد بائیں ہاتھ پر ٹھنڈیانی جانے والی سڑک کا آغاز ہوتا ہے۔ جلد ہی ہم ٹھنڈیانی کے راستے پر تھے۔ کچھ ہی دیر میں ایک موڑ مڑنے کے بعد گاڑی پھر رکی۔ سوزوکی میں سفر کرنے والوں کو اچھی طرح اندازہ ہو گا کہ اس سواری میں آپ پچھلی سیٹوں پر بیٹھ کر گاڑی کے پیچھے کی سمت سے باہر دیکھتے ہیں اور آگے کا منظر نظر نہیں آتا۔ خیر باہر نکل کر دیکھا تو یہ ایک خوبصورت جگہ تھی۔ بائیں طرف کے طویل پہاڑی سلسلے سے ایک شفاف ٹھنڈے پانی کا چشمہ آرہا تھا اور سبزہ و شادابی تو ایبٹ آباد اور تمام ملحقہ علاقوں میں ہر جگہ ہے ہی۔ چشمے کے کنارے ٹین اور لکڑی پر مشتمل ایک ٹوٹا پھوٹا سا کھوکھا تھا جہاں ایک کڑاہی میں آلو کے پکوڑے اور تیل کے چولہے پر سیاہ رنگ کی چائے کی دیگچی نظر آرہی تھی۔

یہ جگہ غالباً ایک روایتی سفری آرام کے پڑاﺅ کی حیثیت رکھتا ہے۔ کیونکہ جتنی مرتبہ بھی یہاں سے گزرے ہمیشہ گاڑی چند منٹ کے لئے یہاں ضرور رکی۔ ڈرائیور حضرات گاڑی میں ٹھنڈا پانی ڈالتے ہیں اور مسافر پیٹ میں چند پکوڑے اور چائے۔ ہم نے بھی روایات کی خلاف ورزی مناسب نا سمجھی۔ ایبٹ آباد کے پکوڑے اپنے ذائقے اور اجزائے ترکیبی کے باعث پاکستان میں سب سے مزیدار پکوڑے ہیں۔ ان پکوڑوں کا اصل مرکز تو ایبٹ آباد کی مشہور تاریخی الیاسی مسجد کے گردو نوح میں واقع دوکانیں ہیں۔ جہاں کئی کئی بوری آلو روزانہ پکوڑوں کی شکل میں فروخت ہوتا ہے۔ کھولتی کڑھائی سے نکلے ان گرم گرم پکوڑوں کا سواد صرف ایبٹ آباد میں ہی ہے۔ خیر ٹھنڈیانی کے راستے میں اس کھوکھے کے پکوڑے بھی خوش ذائقہ تھے اور چٹنی اور گرم چائے کے ساتھ یہ ایک پرلطف ٹی بریک تھی۔

اب سفر شروع ہوا تو گاڑی تھی اور گاڑی کا امتحان تھا۔ ٹھنڈیانی کی عمودی چڑھائی ، پے در پے موڑ اور گہری کھائیاں۔ٹھنڈیانی تک گاڑی لے کر جانا بھی ہر ڈرائیور کے بس کی بات نہیں۔ کہیں چڑھائی کا زاویہ کم ہوتا تو گاڑی کی رفتار کچھ تیز ہو تی اور پھر کسی موڑ سے شروع ہونے والی تند چڑھائی پر گیئر ڈاﺅن اور گاڑی کی رفتا ر نا ہونے کے برابر ہو جاتی۔ راستے میں چھوٹے بڑے گاﺅں اور آبادیوں کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔ ایسی ہی ایک آبادی میں ڈرائیور نے اپنے بچوں کو اتارا اور بلا تاخیر چل پڑا۔ کچھ دیر بعد ہم اس جگہ پہنچے جہاں پہاڑوں کو توڑ کر پتھر اور پھر ان پتھروں سے بجری بنانے والی کرشنگ مشینیں لگی ہوئی ہیں۔ یہاں ہر وقت گردو غبار چھایا رہتا ہے اور کبھی کبھار جب ڈائنا مائیٹ سے پہاڑوں کو توڑا جاتا ہے تو یہ غبار شدید ہو جاتا ہے۔ ایسے موقع پر گاڑیوں کو کچھ دیر کے لئے روک دیا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے اس وقت راستہ کھلا ہوا تھا لہٰذا گاڑی رکے بغیروہاں سے گزر گئی۔

جوں جوں بلندی بڑھ رہی تھی درخت زیادہ اور سبزہ گہرا ہوتا جا رہا تھا۔ ڈھلوانوں میں سبزہ اور چیڑھ کے درخت۔ منظر خوبصورت اور دوستوں کی خوش گپیاں۔تھوڑی دیر میں چیڑھ کے درختوں کی جگہ دیودار کے درختوں نے لے لی اور منظر کے سحر میں مزید اضافہ ہو گیا۔ موسم کی خوشگواریت اور ماحول کی دلفریبی مزاج پر رفتہ رفتہ اپنا تاثر قائم کر رہی تھی۔

 ایبٹ آباد سے چلے ہمیں لگ بھگ ڈھائی گھنٹے ہوچکے تھے۔ اور اب پون گھنٹے تک ہمیں ٹھنڈیانی پہنچ جانا چاہئے تھا۔ گھنے جنگلات، گھاس کے مخملیں فرش اور رنگ برنگے پھولوں کے درمیان اس موڑ مڑتی سڑک پر چلتے بالآخر ہم ٹھنڈیانی میں داخل ہوئے۔چھوٹے بڑے اقامتی ہوٹلوں سے کچھ آگے جا کر گاڑی رک گئی۔

 ہر طرف کا منظر مبہوت کر دینے والا تھا۔ٹھنڈیانی دراصل اس پہاڑ کا نام ہے جس پر اس وقت ہم کھڑے تھے۔ اس کی بلندی ستائیس سو میٹر سے کچھ زیادہ ہے۔اس بلند مقام سے ارد گرد کی بلندیوں اور ڈھلوانوں پر سیاہی مائل سبزجنگلات یہاں سے ایک عجب منظر پیش کر رہے تھے۔ یہ جنگل اس قدر گھنے ہیں کہ اکثر جگہ تو سورج کی روشنی بھی زمین تک نہیں پہنچ پاتی۔ اس وجہ سے درختوں کے نیچے اور سایہ دار جگہوں پر گرمیوں کے موسم میں بھی سفید برف جمی رہتی ہے اور گھنے درختوں کے بیچ میں دور سے چمکتی نظر آتی ہے۔

یہاں پختہ سڑک ختم ہو گئی تھی اور آگے کچا پتھریلا راستہ تھا جو ایک موڑ کے پیچھے گم ہو رہا تھا۔ سامان لے کر ہم آگے بڑھے اور کچے راستے کے ایک طرف لکڑی سے بنے ایک ہوٹل کے باہر رک گئے۔صبح سے اب تک چونکہ مسلسل سفر میں تھے اس لئے یہاں سے کچھ کھانے پینے اور کچھ دیر آرام کے بعد ہمیں آگے روانہ ہوناتھا۔ ہماری اگلی منزل بیرن گلی تھی ۔ بیرن گلی ٹھنڈیانی سے نتھیا گلی کے درمیان ایک گاﺅں کا نام ہے۔ ٹھنڈیانی سے بیرن گلی تک کوئی چار گھنٹے کا پیدل سفر ہے جو تمام کا تمام گھنے جنگلات ہر مشتمل ہے۔بیرن گلی تک اس راستے میں چڑھائی بہت کم ہے۔ آغاز کے تین گھنٹے پہاڑی موڑوں پر مشتمل ڈھلوانی راستہ ہے جس میں دھوپ کا راستہ گھنے درخت روکتے ہیں۔کثرت سے بارش کے باعث اس تمام علاقے میں نمی رہتی ہے اور بے شمار اقسام کی گھاس اورخود رو جڑی بوٹیاں گھنے جنگلات میں پائی جاتی ہیں۔

کھانے اور آرام کے بعد ہم نے سامان اٹھایا اور ٹھنڈیانی کے فارسٹ ریسٹ ہاﺅس کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ایک ڈھلوان تک پہنچے۔ ڈھلوان اتر کر کوئی دس منٹ میں ہم مری سے ایبٹ آباد آنے والی سڑک کے کنارے پہنچ گئے۔ یہاں سے سڑک پار کر کے سامنے وہ راستہ تھا جو بیرن گلی سے ہوتا ہوا نتھیا گلی تک جاتا ہے۔ اس راستے پر کچھ دیر چلنے کے بعد جنگل میں سانس لینے کے لئے ہم ادھر ادھر پتھروں پر بیٹھ گئے۔جھینگروں کی سیٹیوں اور پرندوں کی گنگناہٹ دیودار کے اس جنگل میں اعصاب کو سکون بخش رہی تھی۔ یاسر ایک چھڑی سے زمین پر لکیریں کھینچ رہا تھا۔ یکدم وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔” یہ دیکھو یہ کیا چیز ہے۔“ سب ایک دم گھبرائے کہ پتا نہیں اس نے کیا دیکھ لیا ہے۔ ہم اس کے پاس گئے ۔ وہ چھڑی سے ایک پتھر کے پیچھے کسی چیز کو چھیڑ رہا تھا۔ یہ سانپ کا ایک مرا ہو بچہ تھا۔ سبز رنگت اور کوئی چار پانچ انچ لمبا۔” چلو یار آگے چلتے ہیں کیا پتا کوئی بڑا سانپ نکل آئے کہیں سے۔ “

اپنے رک سیک اٹھائے تیزی سے اترائی اترنے کی وجہ سے جب کبھی تھکاوٹ محسوس ہوتی تو ہم کہیں دو چار منٹ رک کر پھر چل پڑتے۔ بارشوں کی کثرت کی وجہ سے ہر طرف جنگلی پودے اگ آئے تھے جس کی وجہ سے کہیں کہیں راستہ تلاش کرنے میں دقت ہوتی تھی۔ بیرن گلی اور ملحقہ آبادیوں کے لوگ اس راستے پر ہی سفر کرتے ہیں اور یہ ایک مستقل راستہ ہے اس لئے کچھ تلاش کے بعد ہم صحیح راستے پر آجاتے اور سفر جاری رہتا۔

اب شام ڈھل رہی تھی اور گھنے جنگل میں وقت سے پہلے ہی اندھیرا محسوس ہونے لگا تھا۔ سورج بھی دائیں ہاتھ کے پہاڑوں کے پیچھے تھا اور ہم مسلسل سائے میں ہی چل رہے تھے۔ایک نصف دائرے کی شکل میں سفر کرتے کرتے راستہ سیدھا ہونے لگا۔اب کہیں کہیں ہلکی چڑھائی کا سامنا بھی ہو جاتا تھا۔ پیدل سفر کے آغاز میں عموماً آپ تازہ دم ہوتے ہیں اور زیادہ فاصلہ طے کر کے کچھ دیر رکتے ہیں۔ لیکن سفر کے ساتھ ساتھ تھوڑا سفر کر کے زیادہ دیر ٹھہرتے ہیں ۔ اب ہمارے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔

یہاں سے گہرائیوں میں ایک دو گاﺅں بھی دکھائی دیتے تھے۔ اور توقع تھی کہ اب راستے پر بھی کچھ آبادی آئے گی۔ کچھ ہی دیر میں راستے کے ساتھ چند مکان اور دو تین مقامی آدمی چادریں لپیٹے کھڑے نظر آئے۔ قریب جا کر سلام دعا ہوئی ۔اس راستے پر مقامی لوگوں کے علاوہ عموماًمحکمہ جنگلات یا جنگلی حیات سے وابستہ لوگ ہی گزرتے ہیں۔لیکن ہم چونکہ ان لوگوں میں سے نہیں تھے اس لئے ان حضرات میں سے ایک بزرگ کو ہمارے اس وقت سفر کرنے پر تشویش ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ محکمہ جنگلات اور وائلڈ لائف وغیرہ کے لوگ تو اپنی حفاظت اور جانوروں وغیرہ کے بارے میں مکمل معلومات رکھتے ہیں لیکن ہمیں اندھیرے سے پہلے پہلے کسی محفوظ جگہ تک پہنچ جانا چاہئے۔ ان جنگلات میں ہر طرح کے جانوروں کی موجودگی کی وجہ سے ہمیں محتاط رہنے کا مشورہ دیا جا رہا تھا۔ہمیں بتایا گیا کہ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ آس پاس کی آبادیوں کے گھروں سے بکریاں وغیرہ غائب ہو جاتی ہےں اور دن کے وقت بھی شیروں چیتوں کا سامنا ایک معمول ہے۔عام طور پر یہ شیر چیتے انسانوں کو تو نقصان نہیں پہنچاتے لیکن بکریوں کے شکار پر ان کا دارومدار ہے۔بزرگ کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کو اندازہ ہے کہ ان درندوں سے سامنا ہونے کی صورت میں کوئی بھی جلد بازی ، خوف و ہراس کا مظاہرہ یا اپنے بچاﺅ کی فوری تدبیر خطرناک ہوتی ہے۔ اس لئے ہم اپنے اوسان بحال رکھتے ہوئے کوئی ایسی حرکت نہیں کرتے جس سے ان درندوں کو کوئی خطرہ محسوس ہو۔ لیکن دوسرے لوگ خوفزدگی کے عالم میں کوئی ایسی حرکت کر بیٹھتے ہیں جس سے یہ درندے کبھی کبھار ان پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے ہمیں نصیحت کی کے آپ چار لوگ ہیں اور تین چار لوگوں کے سامنے یہ جانور نہیں نکلتے بلکہ چھپ کر مشاہدہ کرتے ہیں اور کسی خطرے کو نا پا کر پر امن رہتے ہیں۔ اور اگر کبھی ان کا سامنا ہو ہی جائے تو بھی پتھر اٹھانے یا شور مچانے سے گریز کریں۔کسی غیر معمولی صورتحال یا خطرے کو نا پا کر یہ جانور خود ہی آپ سے دور ہو جائیں گے۔

یہ معلومات یقینا بہت کارآمد اور ضروری تھیں۔ لیکن اسی جنگل میں ایسی معلومات یقینا رونگھٹے کھڑے کر دینے والی بھی تھیں۔ سب دوستوں کے چہروں پر اڑتی ہوائیاں اندر کے حالات بیان کرنے کے لئے کافی تھیں ۔معلومات کا شکریہ ادا کر کے اور ان مقامی حضرات سے رخصت ہو کر ہم دوبارہ بیرن گلی کے راستے پر چلنے لگے۔

اب خوفزدہ نگاہیں ہر درخت کے پیچھے ، کھائیوں اور پتھروں کے پیچھے کسی شیر چیتے کو ڈھونڈتی تھیں۔ قدم قدم پر خدشہ محسوس ہوتا کہ شیر آیا کہ اب آیا۔بہر حال اس کا یہ فائدہ ہوا کہ شدید تھکاوٹ کے باوجود بھی اب کہیں رکنے اور بیٹھنے کی ہمت نا ہوتی جس کی وجہ سے راستہ تیزی سے طے ہونے لگا۔ گاﺅں سے کچھ فاصلے پر جا کر ہم رکے۔ رکنے کی وجہ یہ تھی کہ یہاںگاﺅں کے دو تین لڑکے پتھر اٹھا اٹھا کردرختوں پر مار رہے تھے۔ قریب جا کر دیکھا تو ان کا نشانہ ایک خاصا اونچا دیودار کا درخت تھا۔ پتھر درخت کی شاخوں اور کبھی تنے سے ٹکڑا کر نیچے گرتے تھے۔ کچھ سمجھ نا آئی کے ان بچوں کی اس نشانہ بازی مشق کا مقصد کیا ہے۔ پوچھا تو انہوں نے کوئی عجیب سے لفظ بولا اور کہا کے اسے مارنے کی کوشش کررہے ہیں۔ درخت پر بظاہر کسی جاندار چیز کا وجود معلوم نہیں ہو تا تھا۔ بچوں کی نشاندہی پر خاصی بلندی پر تنے کے ساتھ اور شاخوں کے بیچ میں چھپنے کی کوشش کرتی ایک بلی نما چیز کو دیکھا۔ اس کا رنگ گہرا بھورا تھا اور اس وقت کے دھندلکے میں نقوش واضح نظر نہیں آتے تھے۔ بچوں کا پتھراﺅ برابر جاری تھا۔ ایک پتھر اس بلی نما چیز کے قریب تنے پر لگا اور وہ ایک دم سے اڑنے لگا۔ یہ ایک حیرت انگیز بات تھی۔ بلی اور اڑے ۔اس کے باقاعدہ پر تھے اور اس کی مدد سے وہ چند درختوں کے فاصلے پر جا بیٹھا۔ اس کی جسامت ایک توانا بلی جتنی اور پر ایک چمگادڑ کی طرح تھے۔ ایسا کوئی جانور ہم نے اس سے پہلے نہیں دیکھا تھااور نا ہی ایسے کسی جانور کے بارے میں سنا تھا۔ یقینا یہ ایک انمول جانور تھا جو عام طور پر نہیں پایا جاتا۔اور اگر کہیں ہے بھی تو لوگوں کا نشانہ بن کر یہ نایاب جانور خاتمے کے قریب ہوگا۔

 اب چلنا شروع کیا تو سورج غروب ہو چکا تھا اور جنگل میں اندھیرا تیزی سے پھیل رہا تھا۔ اندھیرے کے ساتھ ساتھ ٹھنڈ میں بھی اضافہ ہو چکا تھا۔اندھیرے کے خیال سے بیگوں سے ٹارچیں نکال کر ہم نے جیبوں میں رکھ لی تھیں۔سب خاموش تھے اور ایک نفسیاتی خوف کی وجہ سے اعصاب تناﺅ کا شکار تھے۔جلد ہی ٹارچیں جلانا پڑیں۔ہماری نگاہوں میں اب صرف وہ جگہ تھی جہاں ٹارچ کی روشنی پڑتی تھی۔باقی تمام دنیا تاریک تھی۔جنگل میں اب پرندوں کی چہچہاہٹ، ہوا کی سرسراہٹ اور ہمارے قدموں کی آوازوں کے علاوہ کسی چیز کی آواز نا آتی تھی۔ کسی درخت پر کسی پرندے کے جگہ بدلنے یا اپنی ہی ٹھوکر سے کسی پتھر کے لڑھکنے کی آواز بھی ہمیں بری طرح چونکا دیتی اور ہم ٹارچ کی روشنی ادھر ادھر مارنے لگتے۔

ہم اب جلد از جلد بیرن گلی پہنچنے کی کوشش میں تھے۔ہمیں بتایا گیا تھا کہ بیرن گلی کے آغاز میں ایک درخت راستے کے اوپر گرا ہوا ہے۔یہ گرا ہوا درخت اصل میں بیرن گلی کے فاریسٹ ریسٹ ہاﺅس کے احاطے میں ہے لیکن چونکہ یہ ریسٹ ہاﺅس راستے سے بیس تیس فٹ کی بلندی پر اور درختوں میں گھرا ہوا ہے اس لئے شاید رات کے اندھیرے میں نظر نا آئے۔ ہمارے اندازے کے مطابق اب ہم بیرن گلی کے علاقے میں ہی تھے او ر کسی بھی وقت وہ درخت نظر آ جانا چاہئے تھا۔کوئی دس منٹ میں ہم نے وہ درخت تلاش کر لیا۔یہاں سے ہم دائیں ہاتھ مڑ کر ایک چھوٹی سے چڑھائی چڑھے اور ٹارچوں کی مدد سے بیرن گلی کے ریسٹ ہاﺅس تک پہنچ گئے۔

یہاں ہر طرف خاموشی تھی اور اب رات بھی اچھی خاصی سرد ہو چکی تھی۔ ریسٹ ہاﺅس کے چاروں طرف خاردار تار کی باڑ تھی اور اس کا داخلی دروازہ بند تھا۔ اب سوال یہ تھا کہ کسی ڈراﺅنی فلم میں دکھائے جانے کے قابل جنگل کے وسط میں واقع اس ویران و سنسان ریسٹ ہاﺅس میں داخل کیسے ہوں؟ یہ ریسٹ ہاﺅس ایک مختصر سے میدان کے ایک کونے میں تھا۔میدان کے چاروں طرف درخت تھے اور جس طرف بھی ٹارچ کی روشنی جاتی درخت ہی نظر آ رہے تھے۔آخر ہم میدان کے دوسرے کنارے کی طرف چلے تو دائیں طرف ایک کوٹھری نما مکان دکھائی دیا۔دروازہ کھٹکھٹایا تو کچھ دیر بعد گرم چادر لپیٹے ایک آدمی نے دروازہ کھولا۔ریسٹ ہاﺅس کے بارے میں معلوم کیا تو پتا چلا کہ یہ ریسٹ ہاﺅس کے چوکیدار کا مکان ہے لیکن وہ خود یہاں موجود نہیں۔یہ صاحب چوکیدار کے بھائی تھے۔اس نے بتایا کہ چوکیدار کسی کام سے ایبٹ آباد گیا ہے اور ایک دو دن تک آئے گا۔ہم نے اپنا مدعا بیان کیا اور ریسٹ ہاﺅس میں رات کیمپ لگانے کی بات کی تو اس نے نہایت افسوس کے ساتھ معذرت کی کہ گیٹ کی چابی تو اس کے بھائی کے پاس ہے اس لئے ریسٹ ہاﺅس کھولنا اس کے لئے ممکن نہیں البتہ کھانے وغیرہ کا بندوبست وہ بخوشی کر سکتا ہے۔ اب مجبوراً ہمیں ریسٹ ہاﺅس کے باہر چھوٹے میدان میں ہی کیمپ لگانا تھے۔ کیمپ لگا کر ہم اسی چھوٹے سے مکان کے ایک کمرے میں چلے گئے جہاں وہ کھانا پکانے کی تیاری کر رہا تھا۔ ہم نے بمشکل اسے اس بات پر راضی کیا کہ اس وقت اور صبح کے کھانے کی ہم ادائیگی کریں گے۔پہلے چائے تیار کی گئی اور ہم آرام سے باتیں کرنے لگے۔ راستے میں ملنے والے بزرگ کی باتیں، اندھیرے میں کئے ہوئے سفر اور خوف کا ذکر ہونے لگا۔

چوکیدار کے بھائی نے ہماری باتیں سنیں اور تصدیق کی کہ گزشتہ چند ماہ سے ان درندوں کے ہاتھوں لوگوں کا بہت نقصان ہو چکا ہے۔اس علاقے کا کوئی فرد ایسا نہیں جس نے اپنی آنکھوں سے کئی مرتبہ کسی شیر وغیرہ کا مشاہدہ نا کیا ہو اور راستوں تک پر آمنا سامنا ایک معمول ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ گھنے جنگلات کے عین وسط اور دور دور تک آبادیوں کے نا ہونے کی وجہ سے بیرن گلی ان درندوں کا خاص نشانہ ہے۔ اپنی خوراک کے لئے جنگل میں چرنے والے جانوروں کا غائب ہونا تو ایک طرف، رات کی تاریکی میں گھروں کی دیواریں پھلانگ کر اور کھڑکیاں وغیرہ توڑ کر بھی کوئی نا کوئی درندہ ان کے جانور نکال لیتا ہے۔بہت سے لوگوں نے گھروں کی اکثر کھڑکیاں وغیرہ لکڑی کے موٹے تختوں کی مدد سے بند کر دئےے ہیں لیکن پھر بھی ایسا ہوا کہ کسی نہایت طاقتور جانور نے چھ چھ انچ لمبی کیلوں کی مدد سے ٹھونکے گئے ان تختوں کو بھی اکھاڑ دیا۔بقول اس کے کسی بھی وقت کسی بھی جگہ کسی شیر کا سامنا ہو جانا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔رات کے وقت خطرہ محسوس ہونے پر گاﺅں کے لوگ ہوائی فائرنگ وغیرہ کرتے ہیں جس کی وجہ سے یہ درندے بھاگ جاتے ہیں ۔ سوائے انتہائی خطرے اور درندوں کا انسان پر حملہ آور ہونے کے محکمہ جنگلی حیات کی طرف سے ان جانوروں کو نقصان پہنچانے پرشدید پابندی ہے اور ایسا کرنے کی صورت میں سخت سزا کا سامنا کرنا ہوتاہے۔ اس نے اقرار کیا کہ ان درندوں کے ہاتھوں انسانی جانوں کا نقصان نا ہونے کے برابر ہے لیکن لوگ خوف کی وجہ سے دن کے وقت بھی جنگل میں دور تک نہیں جاتے اور شام کے بعد تو بالکل ہی باہر نہیں نکلتے۔

کھانا کھانے کے بعد ہم اپنے کیمپوں میں واپس آگئے۔ ہم دو کیمپ لے کر آئے تھے جس میں چار افراد بآسانی سو سکتے تھے۔یہاں رات کی ٹھنڈک نا قابل برداشت تھی اور جیکٹ کے اندر بھی ٹھنڈ محسوس ہو رہی تھی۔سلیپنگ بیگ کھولے گئے اور یاسر اور عمر ایک کیمپ میں جبکہ عنصر اور میں دوسرے کیمپ میں لیٹ گئے۔ سارے دن کی تھکاوٹ کے باوجود نیند نہیں آرہی تھی۔ایک عجیب سا خوف اعصاب پر سوار تھا۔ ہر کھٹکا شیر کی آمد محسوس ہوتا اور ہر سرسراہٹ کسی درندے کے قدموں کی چاپ معلوم ہوتی۔کبھی کبھار گاﺅں کے کتے بھونکتے تو گمان ہوتا کہ کسی شیر یا چیتے کو دیکھ کر بھونکے ہیں۔کسی کی ہمت نہیں تھی کے کیمپ سے سر باہر نکال کر ارد گرد کا جائزہ ہی لے لے۔ دوسرے کیمپ میں یاسر اور عمر بھی غالباً اسی کیفیت سے دوچار تھے۔عنصر تو شاید سو چکا تھا اورمیری آنکھ بھی کبھی لگتی اور پھر کھل جاتی۔عمر اور یاسر دیر تک باتیں کرتے رہے۔”یار کہیں یہ شیر تو نہیں بھونک رہے؟“ ایک دفعہ کوئی کتا بھونکا تو عمر کی آواز سنائی دی۔وہ شاید خوف کی کیفیت کو کم کرنے کے لئے مذاق کرنا چاہ رہا تھا۔ ”نہیں ، فکر مت کروشیر بھونکا نہیں کرتے۔ جب وہ شکار پر آتے ہیں تو نہایت خاموشی سے آتے ہیں اور اپنا کام کرنے کے بعد اسی خاموشی سے غائب ہو جاتے ہیں۔کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوتی!“ یاسر نے کسی مذاق کی گنجائش ہی ختم کر دی اور اس کے بعد مکمل خاموشی چھا گئی۔

کتوں اور سرسراہٹوں کی آوازوں پر کان لگائے نجانے کب آنکھ لگی ۔ صبح جب آنکھ کھلی تو کیمپ خوب گرم تھا اور اس کی دیواروں سے اندر آتی روشنی دن چڑھ آنے کا پتا دے رہی تھی۔نزدیک ہی بچوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ کیمپ کی زپ کھول کر باہر آیا تو اس چھوٹے سے میدان میں دھوپ پھیلی ہوئی تھی اور ماحول کی خنکی کو کافی کم کر چکی تھی۔صبح کے اس فرحت انگیز ماحول میں چاروں طرف درختوں کے بیچ سے نظر آتے آس پاس کے پہاڑوں پر گھنے درختوں کا منظر نہایت دلنشین تھا۔چھوٹی چھوٹی گھاس سے لبریز اس میدان میں بچے ایک خود ساختہ بلے کے ساتھ کرکٹ کھیل رہے تھے اور انہی کی آوازوں سے ہماری آنکھ کھلی تھی۔جلد ہی باقی دوست بھی باہر نکل آئے۔ سوجی سرخ آنکھیں شب بیداری کی گواہی دے رہی تھیں لیکن ایک تاریک رات میں کسی شیر کی خوراک نا بننے اور دن نکل آنے کا یقین بھی سب کے چہروں پر تھا۔یہ حقیقتاً ایک نا قابل فراموش رات تھی اور رات کی تاریکی میں طے کیا جانے والا یہ ہمارا اب تک کا سب سے باہمت سفر تھا۔

ایک بچے کو بلا کر چوکیدار کی کوٹھڑی میں بھیجا اور جگ میں پانی منگوا کر منہ ہاتھ دھوئے اور سلیپنگ بیگ دھوپ میں ڈال کر مزے سے لیٹ گئے۔ تھوڑی دیر بعد چوکیدار ناشتہ بنا لایا۔ناشتے کے بعد سامان کی پیکنگ اور آگے کے سفر کا ارادہ کیا۔اب دو ممبران کا نقطہ نظر یہ تھا کہ شیروں چیتوں سے لدے اس علاقے میں ٹریکنگ کوئی دانشمندی نہیں۔ یہیں سے کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جو ہمیں ایبٹ آباد یا راولپنڈی پہنچا دے۔ چوکیدار کے بھائی نے بتایا کہ یہاں سے کچھ دیر میں ایک مقامی جیپ سواریاں لے کر ایبٹ آباد جاتی ہے اور کچھ دیر میں نکل رہی ہو گی۔ آپ جانا چاہیں تو فوراً تیاری کر لیں۔بمشکل تمام سب کو ٹریک مکمل کرنے پر آمادہ کیا اور ہمت دلائی گئی کہ آج زیادہ دیر چل کر ہم نتھیا گلی پہنچ سکتے ہیں لہٰذا اپنے ارادے کو پورا کیا جائے۔ چار لوگوں کی موجودگی میں کسی جانور کے حملہ آور ہونے کے امکانات کم ہیں اور بقول مقامی حضرات کسی خطرے کی صورت میں بھی اگر کوئی بھیانک غلطی نا کی جائے تو منزل تک پہنچا جا سکتا ہے۔

بیرن گلی سے آگے چلے تو پسینے آگئے۔چڑھائی بہت شدید تھی اور کافی لمبی بھی۔پہلے تو راستہ کچھ ہموار اور چوڑا تھا لیکن آگے جا کر ایک ایسی جگہ آئی کے پتھروں کی ایک ناختم ہونے والی ڈھلوان تھی جس پر قدم قدم پر سانس پھولتا تھا۔یہ جگہ ایک پہاڑی نالا معلوم ہوتی تھی جس میں بارشوں کا پانی کسی نامعلوم گہرائی میں جا گرتا ہوگا۔

دن کی روشنی اور آس پاس آبادی کی وجہ سے خوف کی کیفیت بہت حد تک کم ہو چکی تھی۔ پرسکون ماحول اور طرح طرح کے پرندوں کی چہچہاہٹ جو دیودار کے درختوں پرپھدکتے پھر رہے تھے۔ بائیں ہاتھ پر ایک گہری کھائی تھی جس میں درخت ہی درخت تھے اور زیادہ نیچے تک نظر نہیں جاتی تھی۔کوئی ایک گھنٹے بعد ہم اس نالے سے باہر نکلے۔اب ہم کافی بلندی پر آ چکے تھے اور یہاں سے آگے فی الحال کوئی چڑھائی نظر نا آتی تھی۔

یہ جگہ ایک وسیع و عریض چمکدار سبز گھاس سے بھرا میدان تھا جس میں کافی فاصلے پر اکا دکا درخت نظر آ رہے تھے۔ حیرت ہوتی تھی کہ ایسے پہاڑی علاقے میں ایسا ہموار میدان بھی ہے۔ میدان کے درمیان میں ایک پگڈنڈی واضح نظر آرہی تھی جس پر ہم اطمینان سے چل رہے تھے۔ میدان کے دوسرے سرے پر پھر سے درختوں کا گھنا سلسلہ دکھائی دے رہا تھا اور ہم بتدریج اس کے قریب ہوتے جا رہے تھے۔پگڈنڈی پر چلتے چلتے ہم درختوں میں داخل ہوگئے اور پگڈنڈی کو بائیں ہاتھ مڑتا دیکھ کر اس پرچلتے رہے۔

کچھ دیر بعد سامنے سے ایک آدمی آتا دکھائی دیا۔قریب پہنچنے پر سلام دعا کے بعد ہم نے راستے کے بارے میں اطمینان کرنا ضروری سمجھا۔معلوم ہوا کہ یہ راستہ تو آزاد کشمیر کی طرف جاتا ہے۔ نتھیاگلی کی طرف جانے والا راستہ ہم کچھ پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔خوش قسمتی سے ہم زیادہ دور نہیں گئے تھے اور اس جنگل میں رہنمائی کے لئے ایک انسان بھی مل گیا تھا۔ہم وہاں سے واپس مڑے ۔ ہمارے رہنما نے بیرن گلی جانا تھا۔ جنگل کے اندر ہی ایک جگہ رک کر اس نے ہمارے راستے کی نشاندہی کی جوگھاس وغیرہ کی وجہ سے اتنا واضح نہیں تھا۔اب ہم اس راستے پر چلے اور ہموار راستے پر چلتے ہوئے ایک اترائی کے کنارے پہنچ گئے۔

 یہاں پھر سے راستہ غائب ہو رہا تھا۔اترائی ایک ویسے ہی نالے کی صورت میں تھی جس سے ہم بیرن گلی کے بعد گزر کر آئے تھے۔اور باقی کسی بھی طرف راستے کا بظاہر کوئی نشان نظر نہیں آرہا تھا۔کچھ دیرکے شش و پنج کے بعد ہم نے نیچے جانے کا ہی فیصلہ کیا۔تیزی سے نیچے اترے اور موڑ مڑتے ہم کافی نیچے آ گئے۔یہ راستہ بھی طویل ہوتا جا رہا تھا۔اتنے میں ایک مرد اور دو تین خواتین جو آس پاس کے کسی گاﺅں کے ہوں گے، آتے دکھائی دئےے۔وہ نیچے سے اوپر آ رہے تھے ۔ وہ بھی ہمیں دیکھ کر حیران ہو رہے تھے کیونکہ ان راستوں پر اجنبی لوگوں کی آمد و رفت نا ہونے کے برابر ہے۔قریب آنے پر ہم نے سلام کیا اور راستے کے بارے میں دریافت کیا۔معلوم ہوا کہ ہم ایک مرتبہ پھر غلط سمت میں جا رہے ہیں۔ اصل میں جس جگہ سے ہم نیچے اترے ہیں وہیں سے بائیں ہاتھ پر وہ راستہ ہے جو ڈاک بنگلہ سے ہوتا ہوا میراجانی کی طرف جاتا ہے۔

اب دوبارہ یہ انتہائی مشکل چڑھائی چڑھنے کی مصیبت آپڑی۔اترتے وقت تو آسانی اور تیزی سے ہم بہت جلدی کافی فاصلہ طے کر آئے تھے۔اب جب اوپر چڑھنا شروع کیا تو آٹے دال کا بھاﺅ معلوم ہو ا۔ اوپر پہنچتے پہنچتے تھکاوٹ سے نڈھال اور حالت سے بدحال ہو چکے تھے۔ راستوں کی ان بھول بھلیوں میں لگ بھگ ڈیڑھ گھنٹے الگ ضائع ہوئے۔ مزید کچھ وقت آرام اور چلنے کے قابل ہونے میں لگا اور جب کچھ طبیعتیں بحال ہوئیں تو صبح سے اب تک کی چمکتی دھوپ کشمیر کی طرف سے آنے والے بادلوں کے پیچھے غائب ہونا شروع ہو چکی تھی۔اب تک کے سفر کے بعد بھوک بھی لگ رہی تھی اس لئے وہ پراٹھے جو صبح ہی بیرن گلی ریسٹ ہاﺅس کے چوکیدار سے بنوا لئے تھے نکال لئے گئے۔راستے میں کسی بھی جگہ سے کھانے یا کھانا پکانے کے بندوبست کا امکان نا ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ ہم نے رات کو ہی کر لیا تھا۔پانی ہم نے بوتلوں میں ساتھ رکھا ہی ہوا تھا۔کھانا کھایا اور چل پڑے۔

یہ ایک لمبا ٹیلہ نما ہموارجگہ تھی جس پر ہم چل رہے تھے اور یہاں سے کافی فاصلے اور گہرائی میں ایک سڑک اور اس پر اکا دکا گاڑیوں کے آثار بھی نظر آتے تھے۔شاید یہ مری سے ایبٹ آباد جانے والی سڑک تھی۔ تھوڑی دیر میں یہ ٹیلہ ختم ہو گیا۔اب آگے ایک دم ڈھلوان تھی اور ڈھلوان کے بعد ایک پگڈنڈی بائیں ہاتھ پر زگ زیگ ہوتی درختوں کے پیچھے غائب ہو رہی تھی۔آسمان پر چھا جانے والے بادلوں سے اب بوندا باندی بھی شروع ہو چکی تھی اور تیز ہوا سے محسوس ہو رہا تھا کہ شاید ابھی بارش تیز ہو جائے۔تیز بارش میں دور دور تک ہمارے لئے کوئی جائے پناہ دکھائی نا دیتی تھی۔درختوں کے نیچے کسی حد تک بارش سے بچا جا سکتا تھا لیکن درختوں کی شاخوں سے ٹپکنے والے پانی سے بچاﺅ کے لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے۔چلتے چلتے ہم درختوں کے ایک اور سلسلے کے قریب ہوتے چلے گئے۔ایک طرف ایک بوڑھی خاتون لکڑیاں اکٹھی کر رہی تھیں۔سلام کیا اور فوراً راستے کے بارے میں دریافت کیا۔خوش قسمتی سے اس مرتبہ ابھی تک ہم صحیح راستے پر تھے۔ بوڑھی خاتون نے کافی آگے تک کے راستے کی نشانیاں اور سمت کا بھی بتا دیا۔ معلوم ہوا کہ کوئی آدھ گھنٹہ چل کر ہم ڈاک بنگلہ ریسٹ ہاﺅس تک پہنچ سکتے ہیں۔ابھی ہم یہ معلومات لے ہی رہے تھے کہ بارش تیز ہو گئی۔سردی جو بادلوں کے چھانے کے بعد پہلے ہی کافی ہو چکی تھی اب شدید ہو گئی۔ہم نے متوقع موسم کے اندازے کے مطابق جو بھی گرم کپڑے رکھے تھے وہ پہن چکے تھے اور اب مزید کوئی بچاﺅ ہمارے پاس باقی نا رہ گیا تھا۔ہم نے تیزی سے قدم اٹھانا شروع کئے ۔ بارش نے چند ہی منٹ میں ہمیں ٹھنڈا ٹھار کر ڈالا تھا۔اب ہمارے پاس کہیں رکنے اور بیٹھنے کا موقع بھی نہیں تھا اور ٹھنڈ سے بچنے کے لئے چلنا ہی واحد صورت تھی۔

اصل امتحان اس وقت شروع ہوا جب پانی کے قطروں کے ساتھ باریک باریک سفید ذرات بھی ہوا میں اڑتے نظر آنے لگے۔اپریل کا مہینہ اور برف باری!!! یہ تو کسی کے بھی وہم و گمان میں نا تھا۔رفتہ رفتہ برف کے یہ سفید ذرات بڑے ہونا شروع ہوئے اور زیادہ دیر نا لگی تھی کہ آسمان سے پانی کم اور برف زیادہ برسنے لگی۔سبز زمین اب سفیدی مائل ہونا شروع ہوئی اور کچے راستے پر بھی پیر پھسلنے لگے۔سفر جاری رکھنا مجبوری تھی۔ درختوں کے نیچے برف باری کی زد سے تو ہم نکل آئے لیکن درختوں سے ٹپکنے والا پانی تو پھر بھی تھا۔کسی نا کسی طرح یہ سب سہتے ، کچھ کانپے اور کچھ ہانپتے ایک موڑ آیا اور درختوں میں گھری ایک عمارت کے آثار دکھائی دئےے۔ لکڑی اور ٹین کی ترچھی چھت اور پتھر کی دیواریں۔یہ ڈاک بنگلہ ہی ہو سکتا تھا۔جلد ہی ہم بنگلے میں داخل ہوئے جہاں دو تین آدمی موجود تھے۔ڈاک بنگلے کے برآمدے میں چھت کے نیچے پہنچ کر کچھ آسودگی محسوس ہوئی۔برف باری بھی اتنی دیر میں کم ہو چکی تھی۔ہم نے فوراً مشورہ کیا کہ اگر برف باری اور بارش نہیں تھمتی تو ڈاک بنگلے کے ملازمین سے ایک رات ٹھہرنے کی بات کی جائے۔ یہ ریسٹ ہاﺅس بیرن گلی ریسٹ ہاﺅس سے بھی زیادہ پراسرار تھا۔بیرن گلی کے آس پاس تو پھر بھی آبادی تھی۔ یہاں سے قریب ترین آبادی بھی ایک طرف بیرن گلی اور دوسری طرف نجانے کتنے فاصلے پر نتھیا گلی کا علاقہ ہو گا۔

آج اب تک کا تمام دن ہم نے جنگل اور آبادی سے دور ویران راستوں پر ہی سفر کیا تھا۔لیکن کسی خونخوار جانور کا کہیں شائبہ تک بھی محسوس نہیں ہوا تھا۔اگر مقامی لوگوں کی داستانیں سچ بھی تھیں تو یقینا یہ جانور انسانوں کا سامنا کرنے سے گریز ہی کرتے ہیں۔ ممکن ہے کسی گمنام گوشے سے ہم بھی کسی شیر، چیتے یا گلدار وغیرہ کی نگاہوں کا نشانہ رہے ہوں لیکن ہمیں کسی بھی موقع پر کسی خطرناک صورتحال کا سامنا نہیں ہوا ۔

زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ بارش اور برف باری کا سلسلہ مکمل طور پر رک گیا۔گو آسمان پر ابھی بادل تھے لیکن ڈاک بنگلہ کے ملازمین کا کہنا تھا کہ ویسے تو موسم بدلنے کی کوئی پیشنگوئی نہیں کی جاسکتی، لیکن ان دنوں میں اس سے زیادہ بارش نہیں ہوا کرتی اور اس اچانک برف باری کا امکان تو انہیں بھی نہیں تھا۔موسم کے بہتر ہوجانے پر ہم نے دوبارہ چلنے کا ارادہ کر لیا۔جب ہم ڈاک بنگلہ سے نکلے تو شام کا آغاز ہو چکا تھا۔جنگل میں جو علاقے بہت گھنے تھے وہاں زیادہ اندھیرا محسوس ہوتا تھا۔اب ہم ایک پہاڑکی ڈھلوان پر ایک پگڈنڈی پرچل رہے تھے۔ بائیں ہاتھ پر یہ ڈھلوان ایک گہری کھائی کی شکل میں تھی جو مسلسل تھی۔ بارش کی وجہ سے تمام گھاس اور زمین گیلی تھی جس کی وجہ سے پھسلن بھی بہت بڑھ گئی تھی۔ ڈر تھا کہ پیر پھسلنے سے کھائی میں نا جا گریں۔ کچھ دیر میں راستے پر برف کا آغاز ہو گیا۔ یہ سرویوں کے موسم کی برف تھی جو لگ بھگ سو میٹر تک راستے کے اوپر اور ارد گرد ابھی تک جمی ہوئی تھی۔کہیں یہ اتنی کچی تھی کہ پیر اس میں دھنستے تھے اور کہیں ایسی سخت کہ پاﺅں جمانا مشکل ہوتا تھا اور بار بار پھسلتے تھے۔بہت احتیاط کے ساتھ یہ جگہ پار کی۔برف سے گزر کر ایک موڑ کے بعد ایک مسلسل چڑھائی کا آغاز ہوا۔کہیں چڑھائی کم اور کہیں زیادہ تھی۔محسوس ہو رہا تھا کہ اب ہم میرا جانی کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں اور یہ چڑھائی میرا جانی کی چوٹی پر جا کر ہی ختم ہو گی۔اب ہم ایک خاصے وسیع علاقے میں تھے جس کے درمیان یہ پگڈنڈی تھی اور ہم آہستہ آہستہ میرا جانی کی چوٹی کی طرف چل رہے تھے۔یہاں درختوں کی تعداد بھی بہت کم تھی اور نظریں کافی دور تک کا علاقہ دیکھ سکتی تھیں۔سورج غروب ہونے سے کچھ ہی دیر پہلے ہم نے پہاڑ کی چوٹی پر ایک کمرہ نما چار دیواری اور ایک کھمبا لگا دیکھا۔یہ میرا جانی کی چوٹی تھی۔تھکاوٹ اب مزید چلنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔لیکن ہم نے کسی نا کسی طرح نتھیا گلی پہنچنا تھا۔ اب راستے میں کسی بھی جگہ کیمپ لگانے کی توقع نہیں ہو سکتی تھی۔میرا جانی کی چوٹی پر پہنچ کر ہم نے کچھ دیر آرام کیا۔یہاں سے ہر طرف منظر قابل دید تھا۔گو موسم کافی حد تک بہتر ہو چکا تھا لیکن آسمان پر کہیں کہیں بادلوں اور باقی اطراف میںہلکی سی دھند کے باعث زیادہ دور تک کا منظر واضح دکھائی نہیں دیتا تھا۔لیکن پھر بھی جو منظر میراجانی کی انتیس سو میٹر سے زیادہ کی بلندیوں سے دکھائی دیتا تھا وہ بھی اتنا خوش کن تھا کہ تھکاوٹ کے اثرات کو بہت حد تک کم کر رہا تھا۔ہر طرف سرسبز درختوں میں ڈھکی ڈھلوانیں۔مختلف پہاڑی سلسلے جو لہروں کی طرح کہیں دور سے شروع ہو کر آس پاس کی کسی بلندی کے پیچھے گم ہو رہے تھے۔آسمان پر شفق کی سرخی اور میرا جانی کی سبز گھاس سے مزین مخملیں زمین۔

ہم نے سنا تھا کہ موسم صاف ہو تو یہاں سے کشمیر کی وادیوں سے گزرتا دریائے جہلم ، کاغان کے برف پوش پہاڑ، نانگا پربت اور کوہستان کے علاقے تک دکھائی دیتے ہیں۔موسم صاف نا ہونے کی وجہ سے یہ سب تو ہم نا دیکھ سکے، لیکن مری اور گلیات کا بیشتر علاقہ اپنی وسعتوں اور سحر انگیز حسن کے ساتھ ہمارے سامنے تھا۔اور شاید میرا جانی کی اس بلندی کے علاوہ اتنا وسیع علاقہ کسی بھی اور جگہ سے دکھائی نہیں دیتا ہو گا۔

اب ہم جس راستے پر چل رہے تھے وہ میرا جانی کی دوسری طرف تیزی سے نیچے اتر رہا تھا جس کے اختتام پر ہم نے نتھیا گلی پہنچنا تھا۔ڈھلوان کے باعث اب ہمارے قدم نا چاہتے ہوئے بھی تیزی سے اٹھتے تھے۔درختوں کا وہ سلسلہ جو زیادہ بلندی کی وجہ سے میرا جانی کی چوٹی پر نا تھا، اب دوبارہ شروع ہو چکا تھا اور سورج غروب ہونے کے بعد اس جنگل میں ہم ٹارچ کی روشنی میں چل رہے تھے۔کل کی رات کا خوف، دن کی روشنی ختم ہوتے ہی دوبارہ ہم پر سوار ہو چکا تھا اور ہم خاموشی سے ارد گرد کی آہٹوں پر کان جمائے تیزی سے اپنی منزل تک پہنچنا چاہتے تھے۔ ہم ایک قطار کی صورت میں چل رہے تھے اور وقتاً فوقتاً راستے کے اطراف اور درختوں کے پیچھے ٹارچ کی روشنی میں اپنی تسلی کر لیتے تھے۔بیرن گلی میں جس یقین اور تواتر کے ساتھ ہمیں شیروں کی داستانیں سنائی گئی تھیں اس کے بعد ہمیں بھی محسوس ہوتا تھا کہ ہم کسی نا کسی شیر سے سامنا کئے بغیر شاید نتھیا گلی نا پہنچ سکیں گے۔ دن کی روشنی میں تو ایسا کوئی واقع پیش نا آیا تھا اور اگر کسی شیر یا چیتے نے کسی درخت کی اوٹ یا پتھر کی آڑ سے ہمارا مشاہدہ کیا بھی ہو تو یقینا انہوں نے ہمیں مسترد کر دیا ہو گااور کسی بکری یا بھیڑ وغیرہ کی تلاش میں اپنی راہ لی ہو گی۔لیکن ہمیں اب بھی خدشہ تھا کہ ممکن ہے ظہرانے میں ان کا موڈ کچھ اور رہا ہو لیکن عشائےے کے لئے وہ اپنی گلی سے گزرتے چند شکاروں میں سے ہی کسی کا انتخاب کر ڈالیں۔

ڈاک بنگلہ کے بعد سے اب تک ہمیں کوئی بھی انسان نظر نہیں آیا تھا۔لیکن یہ بھی ہماری خوش قسمتی تھی کہ راستہ واضح تھا اور ڈاک بنگلہ میں موجود لوگوں نے ہمیں بہت تفصیل کے ساتھ راستے کی تمام نشانیاں بتائی تھیں۔لگ بھگ ایک گھنٹے کی مسلسل اترائی کے بعد ہمیں درختوں میں سے چھن چھن کر آتی اکا دکا گاڑیوں کی روشنیاں نظر آئیں تو جان میں جان آئی۔غالباً یہ نتھیا گلی کی سڑک تھی جس پر گاڑیوں کی آمد و رفت تھی۔تیز تیز قدم اٹھاتے ہم چند منٹ میں اس سیاہ سڑک پر پہنچ گئے جو یقینا نتھیا گلی کی طرف ہی جاتی تھی۔یہاں گھپ اندھیرا تھا اور کافی فاصلے پر دائیں اور بائیں اکا دکا بلب درختوں کے پیچھے کسی آبادی کا پتہ دیتے تھے۔ہمیں یہ اندازہ کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ نتھیاگلی کا بازار کسی سمت میں ہے جہاں ہم کسی قیام گاہ تک پہنچیں۔ کافی دیر کھڑے رہنے کے باوجود کوئی گاڑی وغیرہ بھی نا آئی تو ہم بائیں ہاتھ پر سڑک کے عین بیچ و بیچ چل پڑے۔ اب ہمارے دائیں جانب گھنا جنگل اور بائیں ہاتھ پر ایک بلند دیوار تھی۔کچھ آگے جا کر ایک دم چڑھائی آئی اور ایک پختہ ہموار سڑک کی اس چڑھائی نے ہمارے پسینے نکلوا دئےے۔چڑھائی کے اختتام پر کچھ روشنی نظر آنے پر ہم دائیں ہاتھ مڑے اور چند منٹ میں نتھیا گلی کے بازار میں پہنچے جو اس وقت سنسان پڑا تھا۔دوکانیں بند اور سڑک خالی۔

ایک دو منزلہ ہوٹل میں کچھ لوگ نظر آئے تو ہم فوراً ادھر گھس گئے۔خوش قسمتی سے کمرے بھی مل گئے اور کھانے کا بندوبست بھی تھا۔ہوٹل کے مالک ایک خان صاحب تھے جو ہمارے تھکی ماندی حالت سے زیادہ اس بات پر متجسس تھے کہ رات کے اس وقت کون سی گاڑی ہمیں کہاں سے نتھیاگلی پہنچا گئی ہے۔ہماری مختصر کتھا سننے کے بعد انہوں نے کانوں کا ہاتھ لگایا اور یکدم جوش سے میز پر ہاتھ مارا” یارا آپ ادھر میرا جانی سے رات کو ادھر کیسے نکل آیا؟رات ادھر سڑک پر ایک ٹرک والے نے شیر کو ٹکر مارا اور صبح ہم دیکھنے گیا۔ وہ شیر ایک بیل سے بھی بڑا تھا۔آپ ادھر سے کیسے آیا؟ میرا جانی تو شیروں کا گھر ہے!“

٭٭٭