Latest

روانگی اور سفر کی پہلی شام، ہسپنگ سے آگے حصہ۳


جمعہ کا دن تھا ۔ناردرن ایریاز ٹرانسپورٹ کارپوریشن(نیٹکو )کی بس چار بجے سہ پہر روانہ ہونا تھی__

پروگرام کے مطابق سب لوگوں نے راولپنڈی میں یاسر کی طرف جمع ہوکروہیںسے سفرپر نکلنا تھا۔میں اور عظیم اسلام آباد سے اکٹھے ہی یاسر کی طرف آئے ۔ زاہد بھی گزشتہ رات پہنچ چکا تھا۔

یاسر کا ڈرائنگ روم خوراک کے کسی گودام کا منظر پیش کر رہا تھا۔خوراک کے ڈھیر کے ساتھ ہی سلیپنگ بیگ، ٹراﺅزر، شرٹس، جیکٹیں اور طرح طرح کا سامان ڈھیر تھا۔ایک طرف خالی رک سیک پڑے تھے جن میں ابھی اس سامان کو ٹھونسنا باقی تھا۔ زاہد کے چہرے پر بیزاری کے تاثرات تھے۔

“چلو، جلدی سے اپنے رک سیک خالی کر دو، فوراً!” یاسر نے ہمارے بیٹھنے سے پہلے ہی حکم جاری کر دیا۔

“لیکن میں تو اپنی پیکنگ مکمل کر چکا ہوں اور بڑی دیر لگ جائے گی دوبارہ پیک کرتے ہوئے!” عظیم پریشان ہو گیا۔

“یار بات یہ ہے کہ غیر ضروری سامان ہم یہاں چھوڑ کر جائیں گے۔ دیکھ رہے ہو نا یہ ڈھیر! کون اٹھائے گا یہ سب؟” وزن اٹھانے کے خیال سے یاسر کے پیٹ میں ہول اٹھا رہے تھے۔

“اوہ جی، اسے سمجھاﺅ۔ میرے تو سارے کپڑے نکال کر وہ پھینکے ہیں اس نے! کنکورڈیا جانا ہے وہاں ہر ملک کے لوگ ہوتے ہیں ذرا کپڑے تو صاف ہونے چاہئیں نا۔” زاہد نے ایک زہریلی نظر یاسر پر ڈالی۔زاہد کی بیزاری کے تاثرات کی وجہ اب سمجھ آئی۔

“یہ دیکھو! سفید کاٹن کے جوڑے اس کے،لیدر کی جیکٹ اور موٹی جینز کی پینٹیں۔”یاسر زور سے ہنسا۔” بیڈ شیٹ سائز کا تولیا دیکھو ذرا! کیا یہ سامان کنکورڈیا لے جانے والا ہے؟اب میں سب کا سامان دیکھوں گا پھر فیصلہ ہو گا کہ کیا لے جانا ہے اور کیا نہیں!”یاسر کا لہجہ فیصلہ کن تھا۔

میں نے اور عظیم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔لیکن اب ہو بھی کیا ہو سکتا تھا۔ ہمارے بیگوں کی بھی تلاشی لی گئی۔

“ اوئے! یار یہ شیونگ کٹ تو رہنے دو نا۔ سکردو میں شیو تو کرنی ہو گی۔”

“نائی سے کروا لینا، بہت ہیں ادھر!”

“یہ تم ٹریکنگ کرنے جا رہے ہو یا امتحان کی تیاری کرنے؟ یہ کتاب اور اتنے سارے کاغذ کیا کرنے ہیں؟”

“اوئے یہ مت نکالنا۔راستے کے نقشے ہیں اور کتاب سے کہیں معلومات کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ یہ ٹریکنگ گائیڈ لازمی ساتھ رکھنی ہے۔”

سامان کیا کھلا، ایک ہنگامہ ہی کھڑا ہو گیا۔

متعدد جھڑپوں کے بعد سامان کی چھانٹی ہوئی اور پھر پیکنگ۔ ایک ایک ذاتی رک سیک تو سب کا تھا ہی۔ خوراک کا سامان سب سے زیادہ تھا جو ٹھونس ٹھانس کر دو جہازی سائز کے بیگوں میں آیا۔ برتن، چولہا اور اس نوعیت کی چیزیں بھی بمشکل دو بڑے بیگوں میں سما سکیں۔ ابھی بھی کچھ سامان باقی تھا جومزید دو بیگوں میں بھر دیا گیا۔ہمارے ذاتی سامان سے لبریز رک سیک ان کے علاوہ تھے۔

ہم دو بجے ٹیکسی کی تلاش میں نکلے__سامان کے آٹھ عدد بڑے اور دو عدد کچھ چھوٹے بیگ ہمارے ساتھ تھے__ بہت سے ٹیکسی والوں نے تو یہی دیکھ کر دل چھوڑ دیا__کسی نے روکا بھی تو پیرودہائی کا نام اس کی سماعت پر گراں گزرا__ خیر پون گھنٹے کی تگ ودو اور ٹیم ممبران کی مستقل مزاجی کی بدولت دو ٹیکسیاں نسبتاً مناسب کرائے پر حاصل کر ہی لی گئیں__

دو آدمی اور پانچ بیگ فی ٹیکسی لوڈ کئے گئے __اور بیس منٹ میں پیرودہائی پہنچ کر ان لوڈ۔

اس غیر معمولی بڑے لاری اڈے میںپہنچ کر سخت گرمی اور حبس کا احساس ہو رہا تھا۔ سامان نیٹکو کے دفتر کی دیوار سے لگا کرہم وقت گزاری کرنے لگے__

ہرطرف بسوں کی پیں پڑاں اور ڈیزل کے دھوئیں__ اڈے کے چاروں اطراف دکانوں میں طرح طرح کی اشیاءکی بہتات __جس میں اصلی مال کی پہچان ہر کسی کے بس کی بات ہی نہیں __ ہوٹلوں میںٹی وی پر فلم دیکھنے والوں اور مکھیوں کا ہجوم__وقت گزاری کے لئے کچھ دیر ادھر ادھر مٹرگشت کر نے کے بعدہم واپس اپنے سامان کے پاس آگئے۔

بس کی روانگی سے آدھا گھنٹہ پہلے سامان لوڈکیا گیا۔ ہر بیگ کے ساتھ ایک مخصوص نمبر کاٹیگ لگا کر اس کا آدھا حصہ ہمیں دیا گیا کہ سکردو پہنچ کر یہ ٹیگ دے کر اپنے بیگ لے لیں__یہ طریقہ ہمیں اچھا لگا __ اس طرح مسافروں کا سامان بھول چوک سے ادھر ادھر ہونے کا امکان نہیں رہتا۔

پہلے سے بکنگ کروانے کی وجہ سے ہمیں بس کے اگلے حصے کی سیٹیں مل گئی تھیں__ یہاں سے سامنے کے شیشے اور پہلوﺅں کی کھڑکیوں سے باہر کا نظارہ کرنے میں آسانی تھی__آگے بیٹھنے کا یہ فائدہ بھی ہے کہ راستے میں جہاں کہیں بس رکے آپ آسانی سے نیچے اتر کر اپنی ضروریات پوری کر سکتے ہیں۔

مسافر ایک ایک کر کے سیٹیں تلاش کرتے ہوئے اپنی اپنی جگہ بیٹھ رہے تھے۔ جلد ہی تمام مسافر سوار ہوگئے اور ٹکٹ چیکنگ کا مرحلہ شروع ہوا۔ ان بسوں میں اکثریت ان مسافروں کی ہوتی ہے جو سکردو سے اسلام آباد بلکہ پورے پاکستان میں آتے ہیں اور واپس سکردو جا رہے ہوتے ہیں__ ان لوگوں میں سادگی بھی ہوتی ہے اور ان علاقوں کی بہت اچھی معلومات بھی مل جاتی ہیں__

اکثر ایسا ہوا کہ سفر شروع کرتے وقت ہمیں بہت سی ایسی جگہوں کی مکمل معلومات نہ ہوتی تھیں جو پہاڑوں میں بہت اندر اور دور دراز واقع ہیں __لیکن کسی بس میںمقامی ہمسفروں نے ہمیں تفصیلی رہنمائی مہیا کی کہ فلاں جگہ سے اتنے بجے اس گاڑی میں بیٹھو یا فلاں علاقے کی جیپ اتنے پیسے مانگے گی لیکن اتنے مناسب ہوں گے وغیرہ۔

کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوا کہ لوگوں نے اپنے گھروں کے پتے بھی دیے کہ آپ واپسی پر ہمارے پاس بھی رہ کر جائیں __مزید یہ کہ اپنے ایسے عزیز جو سیاحت کے پیشے سے وابستہ ہوں__ان کے نام اور پتے تک سمجھانے کی کوشش کی کہ انہیں ہمارا بتائیں وہ آپ کی مکمل مدد کریں گے__

 ہمارا تجربہ ہے کہ ان کی بتائی ہوئی باتوں نے ہمیں کم خرچ پر نہایت سہولت کے ساتھ شمالی علاقہ جات کی سیاحت میں بہت مدد دی۔ اتنی سادگی اور تواضع __اعلیٰ ظرفی __اخلاقی عظمت اور بے لوثی __اپنے ہم وطنوںسے شدید محبت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔

میں اور یاسر جبکہ __زاہد اور عظیم ٹکٹ پر لکھے سیٹ نمبر وں کے مطابق بیٹھ گئے۔ طے یہ ہوا تھا کہ جب کوئی ممبراپنے ہمسفر سے اکتا جائے، یعنی بہت ہی اکتا جائے تو سیٹیں بدل لیںگے۔

 بس نے اپنا پہلا پڑاﺅ مانسہرہ میںکرنا تھا__یہ کوئی تین یا ساڑھے تین گھنٹے کا فاصلہ ہے__عموماً یہ وقت مغرب کے بعد یا رات کا ہوا کرتا ہے جہاں سب کھانا وغیرہ کھا لیتے ہیں__ اور اگلے چار گھنٹے تک کی تمام ضروریات کا بندوبست کر لیا کرتے ہیں۔ نماز یا کسی ضروری کام کے لئے کسی مناسب جگہ بس رکوائی جا سکتی ہے __ لیکن نماز کے لئے تو سب ڈرائیور حضرات مکمل تعاون کرتے ہیں__ لیکن دوسری ضروریات کے لئے خاصے پس و پیش سے کام لیتے ہیں__ چاہے وہ ضرورت اپنی انتہا پر ہی کیوں نہ ہو!

ٹکٹ چیکنگ وغیرہ کے بعد بس کو روانگی کا سگنل دے دیا گیا۔پیرودہائی کی مشہور زمانہ سڑک سے ہچکولے کھاتی __بلکہ تقریباً الٹی سیدھی ہوتی __ہماری بس آئی جے پرنسپل روڈ پر پہنچی اور یہاں سے روانی کے ساتھ جی ٹی روڈ اور نصف گھنٹے سے کچھ زائد وقت میں حسن ابدال سے داہنے ہاتھ مڑ کر شاہراہ قراقرم پر رواں دواں ہو گئی۔

حویلیاںکے بعد شام کے سائے گہرے ہونا شروع ہو گئے__

 سڑک کے کنارے گھراوردکانیںاوران کے پیچھے دورتک پھیلے ہوئے سرسبز کھیت __جہاں کھیت ختم ہو رہے تھے وہاں سے سبز پہاڑوں کی لکیر شروع ہو رہی تھی۔منظر مسحور کن تھا!

 کچھ ہی دیر میں پہاڑی علاقے کا آغاز ہو گیا اور بس نے آہستہ آہستہ چڑھائی چڑھنی شروع کر دی۔ بل کھاتی سڑک پر دونوں طرف درختوں نے اپنا رنگ بدلا __ڈھلوانوں پر سبزے کی تہہ اورتراوٹ گہری ہونا شروع ہوئی __اور بس کی کھڑکیوں سے اندر آتی ہواﺅں نے گرمی سے جھلسے جسموں کوفرحت اور خنکی کا احساس دلانا شروع کیا۔

 بائیں ہاتھ پر وقتاً فوقتاً گہری کھائیاں درختوں کے جھنڈ میں سے نظر آرہی تھیں__ حیرت کی بات یہ تھی کہ ان کھائیوں کے پیچھے کے پہاڑوں کی سرسبز چوٹیوں پر بھی اکا دکا مکان نظر آ رہے تھے __ان مکینوں کی ہمت پر بڑا رشک آیا__ اتنی بلندی پر گھر بنانا __اور وہاں سے نیچے اتر کر دوبارہ اچھی خاصی چڑھائی چڑھ کر سڑک تک پہنچنا __اور پھر اسی طرح واپس جانا! __یقیناً ان لوگوں کے پاس کوئی ہیلی کاپٹر نہیں ہو گا اور کسی گاڑی کے ذریعے وہاں تک پہنچنے کا راستہ بھی بظاہر نظر نہیں آیا۔

بہت سے موڑ مڑکراور خاصی بلندی پرایبٹ آباد کا آغاز ہو گیا__

ہوٹل، مارکیٹیں، بسوں کا اڈہ اور گاڑیوں سے بھری سڑک سے آہستہ آہستہ گزرتے ایبٹ آباد کی رنگینیاں دیکھتے ہم مانسہرہ کی طرف چلتے رہے۔ ایبٹ آباد ہزارہ کا اہم ترین شہر ہے __یہاں پاکستان کے دیگر پہاڑی علاقوں کی نسبت ہر قسم کی جدیدسہولیات موجود ہیں__قدرتی حسن سے مالا مال اس شہر میں گرمیوں کے موسم میں ہمیشہ سیاحوں کی بھیڑ لگی رہتی ہے__ٹھنڈیانی، گلیات، الیاسی مسجد اور شملہ پہاڑی جیسے پرفضا اور مشہور مقامات ایبٹ آباد کی کشش میں کمی نہیں ہونے دیتے۔

ہم اب ایوب میڈیکل کملیکس کے سامنے سے گزررہے تھے۔ سرسبز بلند پہاڑوں، صاف ستھری سڑکوں ، ڈھلوانی چھتوں والے گھروں، دفتروںاور درختوں کا یہ منظر ہر زاویے سے حسین تر تھا۔اورایبٹ آباد کے انتہائی خوشگوار موسم میں سفر کی یہ پہلی شام نہایت دلفریب بنا دی تھی ۔

ایبٹ آباد سے مانسہرہ کا فاصلہ تقریباًآدھ گھنٹے کا ہے __

جب ہم مانسہرہ کے مخصوص بس اڈے پر پہنچے تو شام ڈھل چکی تھی __ آس پاس کے درختوں پردن بھر کے تھکے ماندے پرندوں کی چہچہاہٹ ماحول پر چھائی ہوئی تھی اور فضا میں پھیلی خنکی __وجود میں عجیب سا گداز پیدا کر رہی تھی۔ اڈے سے کچھ ہی پہلے شاہراہ قراقرم سے ایک سڑک دائیں طرف نکلی تھی ۔ یہ سڑک بالاکوٹ سے ہوتی ہوئی کاغان اور ناران کی سمت جاتی تھی۔ شوگران، سری پائے، ملکہ پربت، سیف الملوک، لولوسر اور سرل کی جھیلیں ، لالہ زار اور بابوسر ٹاپ ! یہاں سے چلاس تک دریائے کنہار کے ساتھ ساتھ کا سفر کیسے کیسے خوابناک مناظر کو ایک زنجیر میں باندھتا ہے۔

مسئلہ صرف یہ تھا کہ اب وہ سڑک پیچھے رہ چکی تھی اور ہم شاہراہ قراقرم پر تھے جو خود ایک عجوبہ ہے!اور ان گنت عجوبے ابھی اس شاہراہ سے دیکھنے کو ملنے تھے۔

ابھی کھانے کا وقت نہیں ہواتھا اس لئے قریبی ہوٹل میں بیٹھ کر چائے کا آرڈر دیا گیا ۔ میںنے سوچا کہ اگلے پڑاﺅ تک رات کافی ہو جائے گی __لہٰذا کوئی ہلکی پھلکی چیز چائے کے ساتھ کھا لینی چاہئے__

میں اپنی جگہ سے اٹھا ہی تھاکہ یاسر نے میرا ہاتھ پکڑ لیا__

 “اگربسکٹ لے کر آئے تو میں یہیں سے دوسری بس پکڑ کر واپس چلا جاﺅں گا

 ہر سفر میں ساتھ رہ کر یاسرمیری عادات سے بہت اچھی طرح واقف ہو چکا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ جب آپ کئی دنوں کے ٹریک پر نکلتے ہیں تو بحیثیت لیڈر آپ کو بہت ساری چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے__بجٹ ان’ بہت ساری ‘چیزوں میں سب سے اہم ہے__ایسا نہ ہو کہ آپ جب ٹریک سے واپس آرہے ہوں ، سکردو کے اڈے میں پہنچ کر معلوم ہو کہ کرایہ تو چار کے بجائے تین لوگوں کا باقی بچا ہے__اور اب کسی ایک کو دریائے سندھ کے راستے آنا ہوگا__

طریقہ دلچسپ ہو سکتا ہے، لیکن کپڑے بھیگنے کے خیال سے کوئی تیار ہو نا ہو۔ اس لئے جگہ جگہ پیسے خرچ کرتے ہوئے بہت احتیاط اور ایک باقاعدہ حساب کے تحت چلنا پڑتا ہے__اس لئے میں کبھی کبھی یہ کوشش کرتا ہوں کہ کسی جگہ اگر کھانے کے بجائے چائے ،بسکٹ یا سنیکس وغیرہ سے گزارا چلایا جا سکتا ہو توبہت مناسب بات ہے__ اوریاسر میری اس مجبوری کو سمجھنے کے باوجود اسے میری کمزوری بنانے پر تلا رہتا ہے۔

میں ہوٹل سے باہر آیا ۔ ایک طرف ریڑھی پر سموسے اور پکوڑے بک رہے تھے۔ چار سموسے لئے، واپس آیا اور سب کے سامنے میز پر رکھ دئےے۔

“میرے دوست! ناراضگی کی کیا بات ہے؟ تمہیں بسکٹ نہیں پسند تو نہ سہی۔مانسہرہ کے لوگ اتنے بے مروت نہیں کہ مہمانوں کی تواضع بھی نہ کر سکیں!”

دو ڈبے بسکٹوں کی نسبت چار سموسوں کی خریداری سے چند روپوں کی مزید بچت ہو گئی تھی__ لیکن مجھے یقین تھا کہ اگلے پڑاﺅ تک یاسر کا ذہن کسی انتقامی منصوبے کا نقشہ تیار کر چکا ہو گا ۔اس لئے میں رات کے کھانے پر آنے والے اخراجات کا اندازہ لگانے لگا۔

یہ ناممکن تھا کہ ایک لمبے وقفے اور سفر کے بعد کھانے کا بھی ایک طویل دور نہ چلے۔

1 Comment on روانگی اور سفر کی پہلی شام، ہسپنگ سے آگے حصہ۳

  1. Dear all,,

    send me more gilgit photo

    we are going to visit at this beautifull place of world

    any one can guide us to stay as a paing guest

    we are 3 persons age of 41/42.

    we are searching/lookimg for this on who will guide us as well as to help us for staying for 15.16 days in such area.

    as on to develope the relationship . Also we can manage the staying plus boarding fascility for such group who will to visit in Maharashtra (At-Aurangabad/Ellora/Khutabad/Ajanta caves……we can give the shake hand AS ON EXCHANGE BASSIS.)

    WAITING THE REPLY FROM ANY ONE…..rspatil1091@rediffmail.com,,,,,,Mob:09673787266(Aurangabad/Maharashtra)

Comments are closed.