Latest

ریت کی دیوار، دیوار میں پتھر اور نیچے۔۔۔ ہسپنگ سے آگے حصہ۲۰


تمام رات اس قدر گہری نیند سویا کہ صبح جب علی نے کیمپ کے باہر زور دار آوازیں دیں تو ہو ش آیا۔

 کیمپ کی دیواریں روشن تھیں اور طبیعت میںغایت درجہ سکون تھا۔ کل کے اذیت ناک درد کا شائبہ تک نہیں تھا اور تھکاوٹ بھی دور ہو چکی تھی۔ اٹھا ،باہر نکلا اور قریب پڑی ایک بوتل لے کر ضروریات سے فارغ ہونے کسی مناسب جگہ کی تلاش میں نکل گیا۔ ابھی تک کسی بھی جگہ ہمیں صاف اور تازہ پانی کی کمی نہیں ہوئی تھی۔

واپسی پر سب لوگ چولہے کے اردگرد ایک دائرہ بنائے بیٹھے تھے اور چائے اور پراٹھا نما یا پوری نما کوئی چیز اچار کے ساتھ کھانے میں مشغول تھے۔

سب نے مجھ سے سر کے درد کے بارے میں پوچھا اور میرا جواب سن کے سب کے چہرے کھل اٹھے۔ زاہد نے بھی افاقہ بتایا لیکن شاید وہ ابھی بھی مکمل ٹھیک نہیں تھا۔

“سناﺅ جناب، طبیعت کا کیا حال ہے؟ اگر ابھی ٹھیک نہیں ہو تو ہم کچھ دیر مزید انتظار کر لیتے ہیں۔” ناشتے سے فارغ ہو کر میں نے زاہد سے پوچھا۔

“ کل سے بہت بہتر ہے۔ نیند بھی ٹھیک آئی ہے ۔آگے چلو میں ٹھیک ہو جاﺅں گا۔” زاہد نے کہا ۔

“یار، یہ کوئی اوکاڑہ نہیں ہے۔ پتہ نہیں آج کیسا راستہ ملے گا۔ صحیح بات بتاﺅ ہم کوئی رسک نہیں لے سکتے۔” یاسر نے ہاتھ ہلاتے ہوئے کہا۔

“ گل اوکاڑے دی نئیں۔ میں نے کہا نا کہ اب بہتر ہوں تو بس ٹھیک ہوں۔بس اب چلو۔” زاہد کو بھی تاﺅ آگیا۔

 ہم سب نے اسے سمجھایا کہ اس حالت میں مزید بلندی کی طرف جانا مناسب نہیں لیکن وہ نہ مانا۔ واپسی یا تاخیر کے بارے میں وہ سننا ہی نہیں چاہتا تھا۔ اتنے میں پورٹروں نے اپنا سامان تیار کر لیا اور کیمپ پیک کرنے لگے۔ زاہد نے آگے بڑھ کر اپنا رک سیک اٹھا لیا۔ ہم نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور بہتری کی امید کے ساتھ سفر کے لئے تیار ہو گئے۔

ہماری اگلی منزل ’دلسانپا‘ تھی جس کے بارے میں اندازہ تھا کہ تین سے چار گھنٹے کا سفر ہو گا۔

“ سر ادھر سے پانی لے لو۔آگے پانی دور ہے”۔ ابراہیم جونئیر اپنا سامان اٹھا کر ہمارے پاس آگیا۔

ہم نے پانی پیا اور بوتلوں میں بھی بھر لیا۔ابراہیم کے مطابق آگے صاف پانی اب کافی دیر بعد آنا تھا۔

گونڈوگورو کیمپ میں ابھی ہم میدان کے دائیں کنارے پرتھے۔اب آہستہ آہستہ بائیں جانب گلیشئر کیطرف چلنا شروع کیا۔ پورٹر ہم سے آگے تھے اور ان کے پیچھے ہم ایک قطار کی صورت میں قدم اٹھاتے جا رہے تھے۔

 میدان کا اختتام ایک چھوٹے سے ٹیلے پر ہوا۔ یہاں سے ایک انتہائی تنگ راستہ گلیشئیر کی سطح تک نیچے جاتا تھا ۔ ڈھلوان اتنی تند اور زمین اتنی بھربھری تھی کے پیر جمانا مشکل تھے۔ دھب دھب کرتے ایک ایک کر کے ہم نیچے اترے۔

اب گلیشئیر ہم سے صرف چند فٹ کے فاصلے پر تھااور اس سے نکلنے والی ٹھنڈک ہمیں واضح طور پر محسوس کر سکتے تھے۔ انتہائی کٹے پھٹے گلیشئیر کے اس حصے کو دیکھ کر ہم سب تھرا گئے۔ اگر کسی مقام پر اس جیسے گلیشئیر پر سفر کرنا پڑے تو یہ ناممکن تھا۔ کہیں ایک دم ابھرتی برف کی کئی فٹ اونچی سلیں اور کہیں کنویں جیسا کٹاﺅ جس کے اندر پگھلتی برفوں کا پانی جمع ہو رہا تھا۔ کہیں برف نیلگوں سفید اور کہیں کالی ریت میں ڈوبی خوفناک سیاہی۔ گلیشئیر کا ایسا خوفناک منظر اس سے پہلے میں نے نہیں دیکھا تھا۔ اس کے علاوہ کبھی قریب اور کبھی دور سے گلیشئیر کے ٹوٹنے کی آوازیں مسلسل تھیں۔ یہ سب دیکھتے اور سنتے ہم اس راستے پر چلتے رہے جو برائے نام ہی راستہ تھا۔

یہاں زمین اتنی بھربھری تھی کہ پاﺅں دھنستے تھے۔ کہیں گلیشئیر کا پانی زمین کو دلدل بنائے ہوئے تھا اور یہ سب بمشکل ایک فٹ چوڑی پگڈنڈی کا ماجرہ تھا۔ دائیں ہاتھ پر ایک نہایت بلند دیوار تھی جو صرف ریت کی تھی اور صاف نظر آرہا تھا کہ لینڈ سلائیڈنگ یہاں ہر وقت کا معمول ہے۔

ایک جگہ میں سانس لینے کے لئے رکا اور اوپر دیکھا تو میری سانس اٹک کر ہی رہ گئی۔ میرے سر کے عین اوپر اس کٹی پھٹی ریتلی دیوار میں جگہ جگہ کئی کئی من وزنی پتھر لٹک رہے تھے جو کسی بھی لمحے گر سکتے تھے۔ ریت میں دھنسے ان پتھروں کا کہیں آدھا حصہ ہوا میں تھا اور کہیں اس سے بھی زیادہ۔

میں نے گھبرا کو فوراً چلنا شروع کر دیا۔

 اب وقفے وقفے سے میں اوپر دیکھتا اور اس یقینی معلق موت کو دیکھ کر قدم تیز کرنے کی کوشش کرتا۔ تیز رفتاری میں مزاحم بھربھری زمین اور مسلسل دائیں بائیں مڑتی اترائی چڑھائی تھی جس پر عام حالات سے کہیں زیادہ زور صرف ہوتا تھا۔ زور لگانے سے کم آکسیجن کے باعث سانس چڑھ جاتا تھا اور پھر رکنا پڑتا۔

 اچانک دو غیر ملکی لڑکے بری طرح ہانپتے ہوئے میرے سامنے آگئے۔ ابھی تک میرا خیال تھا کہ شاید میں ہی برے حال میں ہوں لیکن ان لڑکوں کو دیکھ کر مجھے اپنے سے زیادہ ان کی حالت پر ترس آیا۔ ان کے چہرے ٹماٹروں کی طرح سرخ اور سانسیں کئی میل پوری رفتار سے دوڑنے والے کسی گھوڑے کی طرح چل رہی تھیں۔ میں نے ’ہیلو‘ کہا تو ان سے جواب تک نا دیا گیا۔ میں ایک طرف ہو کر دیوار کے بالکل ساتھ چپک گیا تا کہ وہ گزر سکیں۔

چند منٹ سانس لینے کے بعد ان میں سے ایک لڑکا مجھ سے مخاطب ہوا۔

“اگلے پڑاﺅ کے لئے ابھی ہمیں کتنا چلنا ہوگا؟”

“تمہاری مشکل کے یہ آخری پندرہ بیس منٹ ہیں۔ اس کے بعد تم آسانی سے نصف گھنٹے میں سیچو پہنچ جاﺅ گے۔” میں نے جواب دیا۔

“تھینک یو فار دس گڈ نیوز”لڑکے آگے گزرنے لگے۔

“ مجھے یہ بتاﺅ کہ دلسانپا یہاں سے کتنی دیر کا فاصلہ ہو سکتا ہے؟” میں نے پیچھے مڑ کر سوال کیا۔

“میرا خیال ہے کہ ابھی تمہاری منزل دور ہے۔ ہم نے بہت تند اترائی پر سفر کیا ہے اس لئے صحیح وقت کا اندازہ ہم شاید نا دے سکیں” لڑکے نے مڑ کر نسبتاً معذرت خواہانہ لہجے میں بتایا۔

“ میں سمجھ سکتا ہوں۔ بہرحال راستے کے بارے میں پیشگی اطلاع کا شکریہ۔” میں مڑ کر پھر موت کے اس کنویں میں چلنے لگا۔

کوئی ڈیڑھ گھنٹہ اس خوفناک حصار سے نکلنے میں لگا۔

یہ ایک خاصا لمبا موڑ تھا جس میںایک گدلے پانی کا نالہ کسی بلندی سے آرہا تھا اور گلیشئیر کو کاٹتا ہوا نجانے کہاں جاتا تھا۔ نالادائیں جانب سے آرہا تھا اور اس ریتلی دیوار کو نصف دائرے کی شکل میں کاٹ رہا تھا۔

نالے کے پار ایک سیدھی چڑھائی تھی جس پر یاسر اٹکا ہوا نیچے میری طرف دیکھ رہا تھا۔ آج یاسر کی رفتا ر ہم سب سے تیز تھی اور وہ آگے تھا۔

 نالے میں پڑے بڑے بڑے پتھروں پر چھلانگیں لگاتا ہوا میں پار ہوا اور ایک پتھر پر بیٹھ کر سکون کا زوردار سانس لیا۔

زندگی میں یہ پہلا راستہ تھا جس میں اپنی احتیاط کا کوئی عمل دخل نہ تھا۔ اگر اللہ کی مہربانی نہ ہوتی تو کسی بھی قدم پر اوپر سے لڑھکتی کوئی چٹان یا بھاری پتھر زندگی کا خاتمہ کر سکتا تھا۔

اب یہ چڑھائی بھی طویل ہوتی چلی گئی اور اس گہرے کنویں نما مقام سے جہاں ہم میدان سے نیچے اترے تھے نکلنا ناممکن نظر آنے لگا۔

 چلتے، رکتے، پسینہ پونچھتے، نجانے کتنا وقت ہوگیاکہ ایک موڑ کے بعد راستہ کچھ ہموار ہوا اور جان میں جان آئی۔ موڑ مڑنے کے بعد زمین کچھ پھیلنا شروع ہوئی اور کہیں کہیں گھاس بھی نظر آنے لگی۔ قدم اٹھانے میں آسانی ہوئی تو رفتار کچھ تیز ہو گئی اور کچھ ہی دیر کے بعد جب سرسبز گھاس اور پیلے پھولوں سے گھرے ایک چھوٹے سے چشمے سے ٹھنڈا پانی پیا اور منہ ہاتھ دھویا تو سکون سا محسوس ہوا۔

 اس جگہ سے آگے پگڈنڈی تک پر گھاس تھی اور اطراف کی سرسبز گھاس آنکھوں کو تراوٹ بخش رہی تھی۔ کچھ آگے جانے پر ایک طرف ابراہیم جونئیر اور یاسر ایک چٹان کے سائے میں گھاس پر بیٹھے نظر آئے۔

 “ویلکم ٹو دلسانپا”

مجھے دیکھتے ہی ابراہیم نے زوردار نعرہ لگایا۔

میں ڈولتا ڈولتا ان کے قریب پہنچا اور زمیں بوس ہوگیا۔گھاس کے مخملی فرش پر لیٹ کر ایک گداز سا محسوس ہوا اور نیند سی آنے لگی۔

 “یار میں نے ایک فیصلہ کیا ہے!” اچانک یاسر نے ڈرامائی انداز میں کہا اور میری بند ہوتی آنکھیں کھل گئیں۔

“وہ کیا؟” میں نا چاہتے ہوئے بھی اٹھ بیٹھا۔

 “آئندہ میں تمہارے ساتھ کبھی نہیں آﺅں گا۔ ذلالت کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔یہ راستہ انسانوں کے چلنے کا تھا؟” یاسر کا روایتی غصہ اپنے عروج پر تھا۔

 “میں بھی آئندہ تمہیں ساتھ نہیں لاﺅں گا۔ یہ سرسبز میدان اور پھولوں سے بھراپہاڑ، پیچھے مشہ بروم اور وہ سامنے گھاس میں بنتی چھوٹی سی جھیل جس کے عکس میں برف پوش چوٹیاں اور نیلا آسمان جھلکتا ہے۔ یہ کوئی جگہ تھی آنے کی؟ ایسی کئی جگہیں تو پنڈی میں بھی ہوں گی ۔۔ہے نا۔۔ اور تم موٹر سائیکل پر بھی وہاں جاسکتے تھے!”میں نے ہاتھ سے اشارے کرتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا۔

“زاہد اور عظیم نہیں پہنچے ابھی تک۔ یار ابراہیم چائے پلاﺅ اور کچھ کھلاﺅ میں ذرا آرام کر لوں۔ ابھی آگے بھی جانا ہے۔” یاسرنے اس جھیل کی طرف دیکھا جس کی سطح میں کہیں اوپر سے آتاشفاف پانی مسلسل اضافہ کر رہا تھااور کونیوں کے سہارے نیم دراز ہو گیا۔

کچھ دیر میں عظیم بھی آگیا۔

 “زاہد بہت آہستہ چل رہا ہے۔ چڑھائی کے درمیان میں ہوگا تھوڑی دیر لگے گی اسے آنے میں۔” عظیم نے استفسار پر بتایا۔

 “تینوں پورٹر کیا پیچھے ہیں؟”میں نے پوچھا۔

“نہیںتو، مجھے تو وہ کہیں نظر نہیں آئے”عظیم نے حیرت سے کہا۔

 “وہ تو سب سے آگے تھے اور ابراہیم جونئیر ان تینوں سے پیچھے میرے ساتھ آرہا تھا۔” یاسر نے کہا۔

 ابراہیم کی طرف دیکھا تو وہ بھی کہیں غائب ہو چکا تھا۔ شاید پانی وغیرہ لینے گیا ہو۔ لیکن پانی تو ہمارے بالکل پاس سے بھی جا رہا تھا۔

ابھی ہم حیران ہی ہورہے تھے کہ ابراہیم افسردہ اور پریشان سی شکل لئے ایک طرف سے آتا دکھائی دیا۔

 “سر بڑا خرابی ہوا” ابراہیم نے بیٹھی آواز سے کہا۔

 “خیریت ؟ کیا ہوا؟ وہ تینوں کہاں ہیں؟” ہر طرف سے سوالات شروع ہو گئے۔

 “سر، وہ ادھر سلیمان اور علی کے گاﺅں کا ایک پورٹر فوت ہوا ہے۔ اوپر پاس پر اس کا طبیعت خراب ہوا ادھر نیچے وہ بہت مشکل سے آیا پھرگلیشئیر پر فوت ہوگیا۔”

ہم سب گم سم اس کی بات سنتے رہے۔

 سب کے ذہنوں میں خوف اور بے یقینی کے گہرے بادل چھا گئے۔ شگر کا ایک پورٹر جو بلندیوں اور برفوں میں کھیلتے جوان ہوا ہو اور اس راستے پر کئی دفعہ گزر چکا ہو وہ فوت ہو جائے تو ہمارا کیا ہو گا؟

“سر سلیمان اور علی پورٹر کو نیچے گونڈوگورو کیمپ تک چھوڑنے جاتا ہے اور آپ سے پوچھنے کا بولتا ہے۔ “ابراہیم نے کچھ دیر کی خاموشی کے بعد جھجکتے ہوئے پوچھا۔

میں نے پریشانی سے سب ممبرز کی طرف دیکھا۔

 “جانے دو یار۔ ان کے گاﺅں کا آدمی ہے کیا پتہ کوئی رشتہ دار ہی ہو۔ ایسے موقع پر اپنے لوگ ہی کام آتے ہیں” یاسر خاصا جذباتی ہو رہا تھا۔

 “ابراہیم، کیا اس پورٹر کی ٹیم میں باقی لوگ نہیں ہیں؟ اور وہ خود اس معاملے کو کیوں نہیں دیکھتے؟”عظیم نے کچھ سوچ کر ابراہیم سے پوچھا۔

 “سر، وہ گوروں کا ٹیم کے ساتھ تھا۔ گائیڈ نے ایک پورٹر کے ساتھ اسے ہوشے کا بولااور خود ٹیم کے ساتھ ہسپنگ میں رک گیا۔ ٹیم کا بہت سامان ہے اور ابھی کوئی اوپر جائے گا توبتائے گا۔ ادھر راستہ آپ نے دیکھا ہے ۔سلیمان اور علی اس کے ساتھ نہ گیا تو گاﺅں کا لوگ ان کو بہت برا بولے گاکہ پیسہ کے لئے یہ لوگ کسی کا مرنے کا فکربھی نہیں کرتا۔”ابراہیم نے سنجیدگی سے جواب دیا۔

 کچھ شش و پنج کے بعد میں نے ابراہیم سے پوچھا

“لیکن پھر ہمارا کیا ہوگا؟کیا ہم یہاں آرام ہی کرتے رہیں گے۔”

“سر، میں اور بڑا ابراہیم آپ کے ساتھ جاتاہے۔ ہم بوجھ اٹھائے گا اور علی اور سلیمان تین چار گھنٹے میں واپس آئے گا۔آپ فکر نہ کروجب یہ بوجھ کے بغیر آئے گا تو جلدی ہم سے مل جائے گا۔” ابراہیم نے کہااور بھاگ کر ایک طرف غائب ہو گیا۔

 ان علاقوں میں کبھی کبھار سیاحوں اور پورٹروں کے حادثات کا شکار ہونے کا سب کو علم ہے۔ اورزیادہ تر یہ حادثات خراب موسم، برفانی کھائیوں اور دشوار راستوں سے گرنے کے باعث پیش آتے ہیں۔ ابھی ہمیں یہ علم نہیں تھا کہ اس پورٹر کی وفات کیسے ہوئی، لیکن ابراہیم کا کہنا تھا کہ وہ بیمار ہوا اور نیچے بھی آیا پھر ایسا کیا ہوا؟ یہ سوال ابھی باقی تھا۔

زاہد بھی پہنچ چکا تھا اور عظیم نے اسے بھی صورتحال سے آگاہ کر دیا تھا۔ کچھ دیر بعد دونوں ابراہیم آتے نظر آئے۔ ابراہیم جونئیر نے فوراً برتن نکال کر چائے وغیرہ بنانی شروع کر دی۔ دن کا وقت بچانے کے لئے ہم نے صبح ہی کچھ فالتو روٹیاں پکوا کر رکھ لی تھیں۔ ٹن فوڈ نکال کر گرم کیا اور کھانا کھایا گیا۔

 ایک گھنٹے کے آرام کے بعد ہم نے اگلی منزل کی طرف روانگی کا ارادہ کیا۔ ابراہیم سینئیر نے بتایا کہ کچھ سامان علی اور سلیمان ساتھ لے گئے ہیں تاکہ ان دونوں کے لئے ناقابل برداشت بوجھ نہ رہ جائے۔

“ سر، اب کافی دیر ہوگیا اور وہ تیز چلتا ہوگا۔ ادھر جب ہم گلیشئیر پر جائے گا تو وہ جلدی ہم سے ملے گا۔ آپ فکر نا کرو۔” ابراہیم نے میرے چہرے پر سوچ کے آثار دیکھ کرعلی اور سلیمان کے بارے میں تسلی دی۔

اضافی سامان ان دونوں نے اپنے سامان کے اوپر باندھ لیا اورہم رفتہ رفتہ پھیلتی اس نیلی جھیل کے کنارے کنارے اگلی منزل کی طرف چل پڑے۔