Latest

پانی میں بہتے پتھر، ہسپنگ سے آگے حصہ۱۹


ایک گھنٹے سے زیادہ آرام اور کھانے نے ہمیں سست کردیا تھا۔ اور اب ہماری چال میں روانی تھی اور نہ ہی رفتار۔ ہماری سستی کی اس سے بھی اہم وجہ وہ نہ ختم ہونے والی چڑھائی تھی جو ہم نے سیچو سے دیکھی تھی اور اب ہر چند قدم کے بعد ہمیں کچھ دیر سانس بحال کرنے میں لگ رہی تھی۔سیچو میں آرام سے طبیعت میں جو کچھ بہتری آئی تھی وہ اب رخصت ہو چکی تھی۔اورجیسے جیسے میں اوپر چڑھ رہا تھا سر کا درد شدید ہو تاجارہا تھا۔

 ایک موڑ پر زاہد نظر آیاجو سر جھکائے ایک درخت کے سائے میں بیٹھا تھا۔میں جان گیا کہ اس کا بھی یہی حال ہے جو میرا ہے۔اس کے قریب کھڑے ہو کر کچھ ہمت افزائی کی باتیں کرنے کے بعد ہم دونوں نے آہستہ آہستہ چڑھنا شروع کیا۔ میں بہت دیر سے اپنی اور زاہد کے درد کا ہی سوچ رہا تھا۔ اکثر ایسا محسوس ہوتا کہ سوچ کسی ایک نقطے پر ٹھہرتی ہی نہیں ہے۔ کسی بھی سوچ میں انہماک قائم نہیں ہو پا رہا تھا۔ اپنے آپ کو کسی خوش فہمی میں مبتلا کرنے کے بجائے میں نے بلندی کے اثرات کے بارے میں سوچنا چاہا۔

میری چھٹی حس مجھے احساس دلا رہی تھی کہ یہ معاملہ شاید اتنا سیدھا نہیں جتنا میں اور باقی ٹیم ممبران سوچ رہے ہیں۔ اگر ایسا ہی ہے تویہ ایک خطرناک بات تھی۔ باقی تمام لوگ ہم سے آگے جا چکے تھے اور کسی سے بھی بات کرنے کا موقع نہ تھا۔ زاہد تھوڑے سے وقفے سے میرے پیچھے آرہا تھا لیکن اسے کسی وہم میں مبتلا کرنا بھی مناسب نہیں تھا۔ میں نے یہی سوچا کہ اگلے پڑاﺅ پر ٹیم ممبران سے مشورہ کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کیا جانا چاہئے۔

اب شام کا وقت ہونے والاتھااور دوپہر کے بعد وقفے وقفے سے غیرملکی ٹیمیں اپنے پورٹروں کے ساتھ اوپر سے اترتی آرہی تھیں۔ خدا خدا کر کے چڑھائی ختم ہوئی۔

ہمارے دائیں جانب اب ایک نیا پہاڑی سلسہ شروع ہو رہا تھا جس پر کہیں سبزہ تھا اور کہیں یہ خشک پتھروں پر مشتمل تھا۔ بائیں جانب بظاہر پتھروں ، لکڑیوں اور مٹی کے ایک جناتی ڈھیر کو ہم نے پہلی مرتبہ دیکھا۔ یہ گونڈوگورو گلیشئیر تھا جو اس چڑھائی کے ساتھ ساتھ گہرائی میں تھا اور چلتے ہوئے نظر نہیں آتا تھا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ چٹان جس سے کبھی نہ بھولنے والی آبشار گر رہی تھی اب بھی نظر آرہی تھی لیکن اب ہم بھی اتنی بلندی پر آچکے تھے جہاں سے اس چٹان کے اوپر جمی برف اور اس سے نکلنے والی یہ آبشار تقریباً ہمارے برابر ہو چکی تھیں۔ سیچو کی کیمپ سائٹ اور سرائے اب گہرائی میں کسی موڑ کے پیچھے غائب ہو چکے تھے۔

ایک نسبتاً ہموار میدان سے گزرنے کے بعد ایک ٹیلے کے سرے پر پہنچتے ہی پانی کا شور سنائی دینے لگا۔ کچھ میٹر نیچے تیز رفتار مٹیالا پانی بلکہ کیچڑ کسی آتش فشاں سے نکلنے والے لاوے کی طرح بہہ رہاتھا۔

 پانی کے پاس یاسر،عظیم اور چاروں پورٹر پار جانے کا راستہ دریافت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ہم بھی ان کے قریب پہنچ گئے۔

“کیا بات ہے؟ آگے کیوں نہیں جا رہے؟” میں نے تقریباً چیخ کر ابراہیم سینئیر سے پوچھا۔پانی کا شور اتنا تھا کہ بہت قریب سے چیخنے پر بھی بات صاف سمجھ نہیں آتی تھی۔

“اوپر کوئی لینڈسلائیڈ ہوا ہے اور پانی میں پتھر آتا ہے”ابراہیم نے بھی میرے کان میں چیختے ہوئے جواب دیا۔

“کیا؟ پتھر پانی میں آ رہے ہیں؟”

 میں نے اس لاوا نما بہتے کیچڑ کو غور سے دیکھا۔ پانی کے زور کا سنا تو بہت تھا لیکن یہ ماجرا آج ہی دیکھا کہ دس دس کلو وزنی پتھر بھی اس ریلے میں بہتے چلے آرہے ہیں جن کے ٹکراﺅ کی وجہ سے پانی کی آواز خوفناک حد تک زیادہ ہے۔

 اب کسی کو بھی نالا پار کرنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔ سب کو ڈر تھا کہ ایک آدھ پتھر بھی ٹخنے پر آلگا تو بس۔۔۔

ہم سب ایک طرف بیٹھ گئے اور کوئی حل سوچنا شروع کیا۔ پانی گہرا نہ تھا، ایک سے دو فٹ تک کی گہرائی ہو گی ۔لیکن تیز رفتا ر اتنا تھا کہ اس میں توازن قائم کرنا قریباً ناممکن تھا۔ نالے کی چوڑائی بھی پندرہ بیس فٹ سے زیادہ نہ تھی۔

بالآخر سلیمان اور علی اٹھے اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ڈنڈوں کے سہارے نالے کے وسط تک پہنچ گئے۔ پھر سلیمان تو وہیں اپنا توازن قائم کرنے کی کوشش کرتا رہا جب کہ علی نے دوتین جستیں لگائیں اور دوسرے کنارے پر پہنچ گیا۔ اب سلیمان نے اپنا پورٹروں والا لمبا ڈنڈا آگے بڑھایا اور چند قدم پانی میں رکھنے کے بعد ابراہیم جونئیر اور سینئیر بھی پار ہو گئے۔ اس کے بعد یاسر اور پھر عظیم نے ہمت دکھائی اور جوتوں میں کیچڑ بھر کے کسی نا کسی طرح دوسری طرف پہنچ ہی گئے۔

 اب میں اور زاہد اس طرف تھے اور زاہد خوفزدہ نظروں سے پانی کو گھورے جا رہا تھا۔ اسے اپنی وزنی جسامت کے ساتھ شایدتوازن قائم رکھنے کا یقین نہیں تھا۔ اسے کشمکش میں دیکھ کر میں نے پانی سے ابھرے ہوئے پتھروں پر پیر رکھا اور دیکھ دیکھ کر کافی دیر میں یہ مہم بھی سر کر ہی لی۔

 زاہد کے پاس اب کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ بھی ہمت دکھائے اور ہمارے ساتھ آملے۔ ڈگمگاتا، جھکتا ٹٹولتا وہ نالے کے درمیان تک آہی گیا۔ ایک ابھری جگہ کو پتھر سمجھ کو اس نے اس پر پیر رکھالیکن بدقسمتی سے وہ پتھر نہیں تھا۔۔۔ کمال اس نے یہ دکھایا کہ مکمل طور پر گرنے سے خود کو اور رک سیک کو بچا لیالیکن کپڑوں پر اس کے وہ پھول بنے کہ ہماری ہنسی تھمنے کا نام نہیں لیتی تھی۔

کچھ دیر بعد ایسے ہی ایک اور نالے سے واسطہ پڑا لیکن اس کے درمیان ایک دو بڑے پتھروں نے گزرنے کا موقع فراہم کیا اور ہم نسبتاً آسانی سے پار کر گئے۔

یہاں سے آگے ایک میدان تھا جس میں کسی بلندی سے پانی آرہا تھا اور ایک وسیع علاقے میں پھیل رہا تھا۔ یہاں سے بھی آہستہ آہستہ گزرتے ہوئے ہم ایک پہاڑ ی کی سمت چلتے رہے۔مغرب کا وقت ہوا ہی چاہتا تھاکہ کچھ دور چند بڑے بڑے پتھروں کے درمیان ایک دوکمرے سے نظر آئے۔ ادھر پہنچ کر معلوم ہوا کہ یہ ہمارا دوسرا پڑاﺅ ہے جسے گونڈوگورو کیمپ کہا جاتا ہے۔

ہم اب جس بلندی پر آچکے تھے یہاں اطراف میں ہر طرف برف پوش چوٹیاں گہرے اور ہلکے بھورے پہاڑوں کے پیچھے سے سر نکال رہی تھیں۔ ہمارے دائیں طرف جو پہاڑ تھے ان کی ڈھلوانوں پر تازہ گھاس اور چھوٹے چھوٹے رنگ برنگے پھول جبکہ بائیں ہاتھ پر گلیشئیر کی دوسری طرف والی چٹانیں خشک اور پتھریلی تھیں۔ قدرت کے یہ رنگ اور امتزاج اس قدر واضح تھے کہ اس کے لئے کسی خاص مشاہدے کی ضرورت نہیں۔

گونڈوگورو گلیشئیر کے کنارے اس میدان میں یہ کیمپ سائٹ ویران تھی اور ہمارے علاوہ کسی بھی ذی روح کا نام و نشان نظر نہ آتا تھا۔ پتھروں اور درختوں کی ٹہنیوں سے تیار کردہ چھوٹے چھوٹے یہ دو کمرے پورٹروں نے اپنے آرام کے لئے بنارکھے تھے۔ پورٹر پہلے ہی سامان وغیرہ رکھ کر آرام کر رہے تھے۔ پہنچتے ہی ہم بھی باری باری ڈھیر ہوتے گئے۔

“ یار سلیمان، کیمپ لگا لو، پھر اندھیرا ہو جائے گا۔” میں نے اندھیرا ہوتے دیکھ کر کہا۔

 سلیمان کے ساتھ یاسر نے بھی مدد کی اور فوراً کیمپ لگا دیا گیا۔کیمپ کے لگتے ہی ہی زاہد سلیپنگ بیگ میں گھس گیا۔

ابراہیم جونئیرجلدی جلدی سامان کھول کر کھانے پینے کے بندوبست کی فکر میں تھا۔خوراک کے بیگ سے اس نے ٹن فوڈ ، آٹا اور برتن وغیرہ نکالے اور چولہا جلانے لگا۔

کھانا کھانے کا دل نہیں کر رہا تھا۔ ہم نے خشک خوراک کے ڈبے لیتے ہوئے سب کی پسند کا پورا خیال رکھا تھا۔ اور مجھے یقین ہے کہ عام حالات میں یہ کھانا بہت رغبت سے کھایا جاتا۔لیکن شاید یہ تھکاوٹ تھی یا بلندی جو دل سے کھانے کی رغبت کو نکال لے گئی تھی۔

زاہد کو بھی بڑی مشکل سے باہر بلایاگیا۔ وہ اپنا مخصوص رومال سر پر لپیٹے ہوئے تھا۔ یہ رومال اتنا بڑا تھا کہ تین چار لوگوں کے لئے دسترخوان کا کام بھی دے سکتا تھا۔

 چند نوالے کھا کر میں نے ابراہیم کو ایک گلاس دودھ تیار کرنے کا کہا۔ ہمارے پاس خشک دودھ کی بھی خاصی مقدار موجود تھی جو ہم نے اسی سوچ کے تحت ضرورت سے زائد خریدا تھا۔

“ زاہد کی طبیعت کافی خراب لگ رہی ہے۔” یاسر نے ایک پتھر سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا۔

“دوپہر تک تو میں بھی اسے دھوپ وغیرہ کا اثر ہی سمجھ رہا تھا۔لیکن مجھے خدشہ ہے کہ یہ بلندی کے وہ اثرات ہیں جن کے بارے میں ہم نے سن اور پڑھ رکھا ہے۔” میں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

“جی ہاں اطہر صاحب، ہمیں اس معاملے کو لاپرواہی سے نہیں ہینڈل کرنا چاہئے۔” عظیم نے بھی مجھ سے اتفاق کیا۔

“آج ہم لوگوں نے اچھی خاصی بلندی طے کی ہے۔ابھی ہمارے جسم اس بلندی کے عادی نہیں ہیں۔”

“پہلے ہی دن میں اتنی بلندی کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ اور وقت بچانے کے لئے ہم فاصلہ بھی زیادہ طے کر رہے ہیں۔ آج کی رات بہت اہم ہے۔ ہمیں امید کرنی چاہئے کہ رات کو آرام کر کے اور ڈائی ماکس کی گولیاں کھا کر ہم آگے چلنے کے قابل ہوجائیں۔” میں نے امید ظاہر کی۔

بلندی کی مہمات میں اصول ہے کہ ایک دم زیادہ بلندی پر نہیں جایا جاتا بلکہ کچھ بلندی پر جا کر واپس آجاتے ہیں اور پھر اگلی دفعہ مزید اوپر جا کر کچھ نیچے اتر آتے ہیں۔ اس سے انسان کم آکسیجن اور بلندی سے ہم آہنگ ہو جاتا ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے پاس وقت کم اور سفر زیادہ تھا۔

“ایسا کرتے ہیں کہ تھکاوٹ کے باوجود کچھ کوشش کرکے ہم سب یہ سامنے والی پہاڑی پر تھوڑاساچڑھتے ہیںاور پھر واپس آکر سو جاتے ہیں۔ میں نے سنا ہے کہ اکلامیٹائزیشن کے لئے یہ طریقہ بہت موثر ہے۔”عظیم نے رائے پیش کی۔

عظیم کی بات بالکل بجا تھی۔ مجھ میں ہمت تو نہیں تھی لیکن یہ مشورہ دل کو لگتا تھا۔ زاہد کو سمجھایا لیکن وہ دوبارہ سلیپنگ بیگ میںگھس چکا تھا اور کسی صورت باہر نکلنے کو تیار نہ تھا۔

 گلیشئیر کے کنارے اس کھلے میدان میں ٹھنڈ بھی کافی ہو چکی تھی اور رات تیزی سے اتر تی محسوس ہورہی تھی۔ گرم پروں والی جیکٹ، سر پر ٹوپی اور گرم دودھ پینے کے بعد میں آہستہ آہستہ دائیں ہاتھ کی پہاڑی پر چڑھنا شروع ہوا۔ یہ گھاس اور خوش رنگ پھولوں سے لبریز ایک آسان ڈھلوان تھی جو کہیں بہت اوپر جا کر دشوار ہوتی گی۔ دھیرے دھیرے چلتا ہوا میں میدان سے سو ڈیڑھ سو میٹر کی بلندی تک آگیا۔ کچھ دیر بیٹھنے کے بعد میں واپس آیا اور ڈائی ماکس کی دو گولیاں کھا کر لیٹ گیا۔

عام حالات میں شاید اس درد کے ساتھ تمام رات نیند نہ آتی لیکن تمام دن کی تھکاوٹ کے بعد جسم کو جیسے ہی گرمی اور آرام میسر آیا، نیند نے تمام حسیات پر قبضہ جمانا شروع کر دیا۔ بمشکل دس منٹ کے اندر اندر میں گہری نیند سو چکا تھا۔